فطرت کی تصدیق
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۹
فطرت کی تصدیق
سیدھا رکھو اپنا رخ دین پر ایک طرف کا ہوکر۔ وہی فطرت اللہ کی جس پر پیدا کیا لوگوں کو۔ بدلنا نہیں ہے اللہ کے بنائے کو۔ یہی ہے دین سیدھا۔ مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ سب رجوع ہو کر اس کی طرف۔ اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور قائم کرو نماز اور نہ ہو جاؤ شرک کرنے والوں میں۔ جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور ہو گئے فرقے فرقے ۔ ہر گروہ اس پر نازاں ہے جو اس کے پاس ہے۔ اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارنے لگتے ہیں اس کی طرف رجوع ہو کر۔ پھر جب اللہ چکھاتا ہے ان کو اونچی طرف سے کچھ مہربانی تو ان میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں ۔ تا کہ منکر ہو جائیں ہمارے دئے ہوئے سے۔ پس چند روز فائدہ اٹھا لو۔ جلد ہی تم جان لو گے (روم ۳۳-۳۰) آدمی کیا ہے ۔ امیدوں اور حوصلوں اور تمناؤں کا ایک مجموعہ۔ آدمی اپنی عین بناوٹ کے لحاظ سے ایک مرکز چاہتا ہے جس کی طرف وہ اپنی تو جہات کو مرتکز کر دے ، جس کی طرف وہ پھیکے ، جس کی یاد کو لئے ہوئے وہ سوئے اور جاگے ، اپنے وجود کو ہمہ تن جس کے حوالے کر دے ۔ جس طرح کسی آدمی کے بس میں نہیں کہ اپنے اندر سے کھانے اور پانی کی طلب کو ختم کر دے، اسی طرح کسی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ ان احساسات سے ، اپنے آپ کو خالی کر سکے ۔ ۔۔۔۔۔ آدمی جب ان پہلوؤں سے خدا کو اپنا مرکز ووجہ بناۓ تو یہ توحید ہے اور جب کوئی دوسری چیز اس کی تو جہات کا مرکز بن جائے تو اسی کا نام شرک ہے ۔ توحید یا خدا پرستی کے داخل فطرت ہونے کا یہاں ایک نہایت سادہ ثبوت دیا گیا ہے جس کا تجربہ کسی نہ کسی وقت ہر شخص کو ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ ہر آدمی اپنے مشکل وقتوں میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ فطرت انسانی کا ایسا تقاضا ہے جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہ ہوسکی ، آدمی خواہ مشرک ہو یا منکر ، جب ڈر کا لمحہ آتا ہے تو حقیقت کھل جاتی ہے اور اس کی فطرت بے اختیار اسی ایک خدا کو پکارنے لگتی ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ اسی بنا پر کسی نے کہا ہے کہ خدا اگر موجود نہ ہو تب بھی ضروری ہوگا کہ خدا کو ایجا د کیا جائے : If God did not exist, it would be necessary to invent him مطلب یہ کہ انسان خدا جیسی ایک ہستی کا اتنا زیادہ محتاج ہے کہ وہ اس سے کسی حال میں خالی نہیں رہ سکتا ۔ حتیٰ کہ اگر خدا فی الواقع موجود نہ ہو تو وہ خود سے اپنا ایک معبود گھڑلے گا اور اس کو خدا کی طرح پکارے گا۔ تاکہ اپنی فطرت میں چھپے ہوئے جذبات کو تسکین دے سکے ۔
توحید کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کو اپنا مرکز ووجہ بنائے۔ مگر جب بگاڑ آتا ہے تو کچھ اشخاص لوگوں کا مرکز تو جہ بن جاتے ہیں ۔ ہر گروہ کسی زندہ یا مردہ شخصیت کے گرد جمع ہو جاتا ہے ۔ ہر گروہ فضل و کمال کا ایک ایسا معیاربنالیتا ہے جس میں اس کی اپنی محبوب شخصیت سب سے زیادہ اپنی دکھائی دے ۔ اس طرح ہر گروہ کے گرد فرضی خوش خیالیوں کا ایک قلعہ تیار ہو جاتا ہے جس میں پناہ لے کر وہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی دنیا و آخرت کو محفوظ کر لیا ۔ اب خدا پرستی کے نام پر انسان پرستی دین میں داخل ہو جاتی ہے اور اسی کے ساتھ دوسرا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دین ٹکڑے ٹکڑے ہو کر کئی دینوں میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues