حق کا انکار کرنے والے
الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۴
حق کا انکار کرنے والے
حق کا انکار کرنے کی وجہ عام طور پر دو ہوتی ہیں۔ ظلم اور علو (نمل ۴۱) ظالم سے مراد ہے غیر صحیح یعنی لوگ جو مفاد اور مصلحت کے پجاری ہوں۔ اور صحیح اور غلط کا فرق کئے بغیر زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور علو پسند وہ لوگ ہیں جو اپنے اندر کبراور گھمنڈ کی نفسیات لئے ہوئے ہوں ظلم کی پیدائش کی زمین اگر مفاد پرستی ہے تو علو کی پیدائش کی زمین خود پرستی۔ حق کی دعوت جب کھل کر سامنے آتی ہے تو وہ تمام لوگ اس سے متنوش ہوجاتے ہیں جو صحیح اور غلط کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر دنیا سمیٹنے میں لگے ہوئے ہوں اور دل کے اندر کوئی خواہش پیدا ہونے ہی کو اپنے لئے کافی معیار سمجھتے ہوں، ایسے لوگوں کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ حق کے پیغام کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بنائی ہوئی زندگی کو درہم برہم کر دیا جائے۔ ہاتھ پاؤں اور زبان پر روک، کمانے کے طریقوں میں حرام و حلال کا لحاظ، معاملات میں صحیح اور غلط کی تمیز، لوگوں کے ساتھ بیٹھنے میں انصاف اور بے انصافی کا فرق، یہ چیزیں جو حق کا لازمی تقاضا ہوتی ہیں، ان کو جنجال نظر آتی ہیں۔ وہ اپنی آزاد زندگی پر روک لگانے کے لئے تیار نہیں ہوتے، اس لئے وہ حق کو قبول نہیں کرتے۔
دوسرا گروہ علو پسندوں کا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو حالات کسی اونچی گدی پر پہنچائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے ماحول میں عزت اور شہرت کا مقام ملا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے حق کی دعوت آتی ہے تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے اس کے حق ہونے کا اقرار کر لیا تو ان کی بڑائی کا مقام ان سے چھن جائے گا۔ خاص طور پر وہ لوگ جو مذہب کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے ہوں، وہ سب سے پہلے اس پیچیدگی کا شکار ہوتے ہیں۔ کیوں کہ وہ عوام کو یہ باور کرائے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ جس مذہب کے نمائندے ہیں وہی اصل مذہب ہے۔ ایسی حالت میں اپنے سے باہر کسی حق کو ماننا اپنے کو گدی سے اُتار نے کے ہم معنی ہوتا ہے اور ملی ہوئی گدی سے اترنا آدمی کے لئے ہمیشہ مشکل ترین چیز رہا ہے۔ وہ دنیا میں اپنے وقار کو بچانے کی خاطر حق کا انکار کر دیتے ہیں، خواہ یہ انکار ان کے آخرت کے وقار کو مشتبہ بنا دے۔
ظلم اور علو میں مؤخر الذکر زیادہ شدید قسم کی رکاوٹ ہے۔ سورہ یوسف میں مصر کی امرأۃ عزیز کا قصہ نقل ہوا ہے۔ وہ ایک وقت حضرت یوسف کی شدید مخالفت بن گئی تھی۔ اس کے بعد حضرت یوسف کی براءت کا ایک چھوٹا سا واقعہ اس کے سامنے آیا۔ یعنی خواب کے بارے میں آپ کی تعبیر کا صحیح ہو جانا۔ اس کو سن کر وہ پکار اٹھی : الآن حصحص الحق (اب حق بات ظاہر ہو گئی) دوسری طرف اسی مصر میں فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ نے مسلسل بڑے بڑے معجزے دکھائے۔ مگر وہ آخر وقت تک آپ کی صداقت کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ عزیز مصر کی عورت کا معاملہ ظلم یعنی ذاتی مفاد یا ہوس کا معاملہ تھا۔ جب کہ فرعون مصر کا معاملہ علو یعنی کبراور گھمنڈ کا معاملہ تھا۔ جو شخص ذاتی مفاد کی وجہ سے حق سے دور ہو وہ اگر وہ اس کو قبول نہ کرے گا تو اس کا امکان ہے کہ وہ زبان سے اس کا اعتراف کرلے۔ مگر جو شخص اپنی برتری کے احساس کی وجہ سے حق سے دور ہو وہ نہ اس کو قبول کرے گا اور نہ اس کا اعتراف کرے گا۔ ایسا شخص اپنی متکبرانہ نفسیات کے تحت بنے ہوئے ذہنی خول میں زندگی گزار تار رہتا ہے موت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس کے خود ساختہ ذہنی خول سے اس کو باہر لانے میں کامیاب ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues