Al-Risala · February 1980 · page 45

دین میں الحاد

الرسالہ، فروری ۱۹۸۰، صفحہ ۴۵

دین میں الحاد

قرآن میں انسان کی جن گمراہیوں کا ذکر ہے ان میں سے ایک دین میں الحاد ہے۔ الحاد کے معنی ہیں انحراف۔ عربی میں کہتے ہیں الحد السهم الهدف یعنی تیر نشانہ کے ادھر ادھر سے نکل گیا، اصل نشانہ پر نہیں لگا۔ دین میں الحاد یہ ہے کہ دین کو اس کی اصل حیثیت میں لینے کے بجائے کسی بدلی ہوئی حیثیت میں لینا ۔ مثلاً اللہ کے نام (اسماء حسنی) ہم کو اس لئے تپلئے گئے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے ہم اللہ کی برتری اور کمال کا تصور کریں اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا ادراک کر کے اپنے آپ کو اس کے آگے ڈال دیں۔ ۔ ا سماء حسنیٰ سے اپنے لئے اس قسم کی غذا لینا دین کو اس کی اصل حیثیت میں لینا ہے۔ اس کے بجائے اسماء حسنیٰ میں الحاد یہ ہے کہ اس کو سحر اور سفلی عملیات کے لئے استعمال کیا جائے۔ یا مثلاً اللہ کو قرآن میں ملک (بادشاہ) کہا گیا ہے۔ اب دنیوی بادشاہ پر قیاس کرتے ہوئے یہ نظریہ بنایا جائے کہ جس طرح بادشاہوں کے یہاں کچھ مصاحب اور مقرب ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے بھی مصاحب اور مقرب ہیں اور وہ ان کی سفارش کو اسی طرح سنتا ہے جس طرح دنیوی بادشاہ اپنے مصاحب اور مقرب کی سفارش کو سنتے ہیں۔ دین میں اس قسم کا الحاد یا انحراف اس کی تمام تعلیمات میں ہوتا ہے۔ آدمی دین کی اصل شاہراہ سے ہٹ کر کسی اور سمت میں چل پڑتا ہے اور لفظی تاویلات کے ذریعہ اپنے کو سمجھاتا رہتا ہے کہ وہ دین خداوندی پر قائم ہے۔ کچھ لوگ اللہ کے نام اور کلام کو عملیاتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس طرح اسلامی عملیات‘‘ کے نام سے سحر و کہانت کو اسلام میں داخل کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اسلام کے آداب اور عبادات کو مال و اولاد کی برکت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور اس طرح اسلام کو اپنی مادہ پرستانہ زندگی کا ضمیمہ بنا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ قومی مسائل کے لئے احتجاج اور مطالبات اور مظاہروں اور تقریروں میں مشغول ہوتے ہیں اور اپنی اس قوم پرستانہ مہم کو اسلام کی اصطلاحات میں بیان کر کے ظاہر کرتے ہیں کہ یہی اسلام کا اصل مدعا ہے۔ کچھ لوگ اقتدار اور لیڈری کے لئے سرگرم ہوتے ہیں اور قرآن و حدیث کی تاویل کر کے ظاہر کرتے ہیں کہ یہی اسلامی سیاست ہے اور وہ اسلام کی سیاسی سربلندی قائم کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ دینی مسائل میں خود ساختہ بحثیں اور موشگافیاں نکالتے ہیں اور اس کی بنیاد پر ادارے قائم کرکے کہتے ہیں کہ وہ دینی تعلیم کا کام کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ عملیاتی مشقیں ایجاد کرتے ہیں اور اس کو اسلام کا نام دے کر کہتے ہیں کہ یہ اسلامی روحانیت ہے۔ کچھ لوگ جدال اور مناظرہ کے اکھاڑے قائم کرتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اسلام کی تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔ یہ سب دین میں الحاد ہے۔ اس قسم کا الحاد آدمی کو دین سے دور کرنے والا ہے، خواہ وہ اپنے آپ کو کتنا ہی دین سے قریب سمجھتا ہو۔

دین میں الحادیہ ہے کہ دنیا کو دنیا کے نام پر کرنے کے بجائے دنیا کو دین کے نام پر کیا جانے لگے۔ آدمی اپنی نمود و نمائش کے لئے اٹھے اور اس کو دین کا نام دے ۔ وہ اپنے دنیوی حوصلوں کو پورے کرنے کے لئے سرگرم ہو اور یہ اعلان کرے کہ وہ اسلام کو زندہ کرنے کے لئے اٹھا ہے۔ وہ اپنے سیاسی ذوق کی تسکین کے لئے کام کرے اور ثابت کرے کہ یہی قرآن و سنت کا عین مدعا ہے۔ اسلام یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اسلام کے پیچھے چلائے۔ اس کے برعکس آدمی جب ایسا کرے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق چلے اور اسلام کی تاویل کرکے اس کو اپنے مطابق ڈھال لے تو یہ الحاد ہے جو اللہ کے نزدیک سخت گناہ ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1980 All issues

Printed page