رات کے بعدن
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۲
رات کے بعدن
وَلَقَمَرِ وَلَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ قسم ہے چاند کی اور رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی قسم اِنَّهَا لَا حَدَى الْكُبْرِ نَذِيرًا لِلْبَشَرِ لِمَنْ شَاءَ جب وہ روشن ہو جائے۔ وہ دوزخ بڑی بھاری چیز ہے جو مِنْكُمْ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا انسان کے لئے بڑا ڈراوا ہے، تم میں سے ہر اس آدمی کے كَسَبَتْ رَهِينَةٌ لئے جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے۔ ہر آدمی مُدَّثَّر ۳۸-۳۲ اپنے کئے میں پھنسا ہوا ہے زمین پر ہر روز ایسا ہوتا ہے کہ یہاں رات آتی ہے اور زمین گہری تاریکی میں ڈوب جاتی ہے۔ اس کے بعد دن نکلتا ہے اور ہر چیز دوبارہ سورج کی روشنی میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہ واقعہ آخرت کے معاملہ کی تمثیل ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کی اصل حقیقت چھپی ہوئی ہے، آخرت میں ہر آدمی کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ آج ہماری زندگی ” رات “ کے دور سے گزر رہی ہے، موت کے بعد ہم ” دن “ کے دور میں پہنچ جائیں گے۔
آج آدمی ایک قسم کے پردہ میں ہے۔ وہ دلیل پر قائم نہ ہونے کے باوجود خوش نما الفاظ بول کر لوگوں کو اپنے بارے میں غلط فہمی میں ڈالے ہوئے ہے کسی کی دنیوی شہرت و مقبولیت اس کی مجرمانہ حیثیت کے لئے پردہ بن گئی ہے۔ کسی کے دولت و اقتدار نے اس کو موقع دیا ہے کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے مفلس ہونے کے باوجود مادی رونقوں میں اپنے معنوی افلاس کو ڈھانک سکے۔ کوئی اندر سے بے دین ہے مگر کچھ رسمی اعمال کا اہتمام کر کے ظاہر کر رہا ہے کہ وہ خدا پرست اور دیندار ہے۔ لوگ ظلم اور بے انصافی میں جی رہے ہیں مگر اپنی نمائشی تدبیروں سے وہ عوام کو اس دھوکہ میں ڈالے ہوئے ہیں کہ وہ عین حق و انصاف پر قائم ہیں۔
مگر جب آخرت کا سورج طلوع ہو گا تو وہ تاریکی کے ان تمام پردوں کو پھاڑ دے گا۔ اس وقت ہر آدمی اپنی اصلی صورت میں دکھائی دینے لگے گا۔ اس وقت صاف نظر آئے گا کہ کون شخص اندر سے جانور تھا اور بظاہر انسانی صورت میں چل رہا تھا۔ کون شخص ناطق پر تھا اگر چہ وہ خوبصورت الفاظ بول کر اپنے کو حق پرست ثابت کئے ہوئے تھا ۔ کون شخص اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش میں مبتلا تھا اگرچہ زبان سے وہ اللہ کا نام لیتے ہوئے تھکتا تھا۔
اس کے مقابلہ میں کچھ اور لوگ ہوں گے جن کی حقیقت آخرت کے دن لوگوں کے سامنے آئے گی۔ وہ دیکھیں گے کہ ایک شخص جس کو انھوں نے اس کے معمولی حالات کی بنا پر غیر اہم سمجھ لیا تھا وہ اپنے اندر اہمیت کا پہاڑ لئے ہوئے تھا۔ ایک شخص جس کو دنیا کی پر رونق مجلسوں میں کہیں عزت کی جگہ نہیں ملی تھی وہ فرشتوں کی زیادہ با عزت مجالس میں اپنے صبح و شام کے اوقات گزار رہا تھا۔ ایک شخص جس کو وقت کے بڑوں نے اپنے نزدیک رد کر دیا تھا وہی وہ شخص تھا جس کو خدا کی طرف سے مقبولیت کی سند ملی ہوئی تھی۔ ایک شخص جس کو دنیا کے لوگ بے دین قرار دے کر حقارت کے خانہ میں ڈالے ہوئے تھے اس کا نام خدا کے یہاں دین داروں کی فہرست میں سب سے اوپر لکھا ہوا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues