Al-Risala · March 1981 · page 3

دوسرے درجہ پر

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۳

دوسرے درجہ پر

آئی آن سرڈیوچ تور جنیف (۱۸۱۸ - ۱۸۰۳) روس مشہور ناول نگار ہے۔ اس کے ایک دوست نے ایک بار اس کو لکھا: ”میرے نزدیک اپنے آپ کو ہمیشہ دوم درجے میں رکھنے پر رضا مند کر لینے ہی میں زندگی کی ساری اہمیت پوشیدہ ہے‘‘ یہ بات صد فی صد درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام اجتماعی اور قومی برائیاں اسی لئے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلہ دوم درجہ پر رکھنے کے لئے راضی نہیں ہوتے۔ ہر ایک اپنے آپ کو اول درجہ پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جہاں ہر شخص اور ہر قوم اپنے کو اول درجہ پر رکھنا چاہے وہاں لازماً یہی ہوگا کہ باہمی ٹکراؤ ہو، اور کوئی دوسرے کا خیر خواہ نہ رہے۔

انسانیت کے اکثر فلسفے اسی بنیادی فکر کے گرد گھومتے ہیں۔ سماجی مفکرین کی کوششوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کے سامنے کچھ ایسے اعلیٰ معیار رکھ دئے جائیں جن کو آدمی ہر حال میں اپنے سے بالاتر سمجھے، وہ اپنی ذات کو مرکز بنانے کے بجائے ان معیاری قدروں کو اپنے فکر و توجہ کا مرکز بنائے۔ مگر عملاً کوئی فلسفی اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس چیز کو بھی انھوں نے اس حیثیت سے دریافت کیا کہ وہ انسان کی تو جہات کا مرکز اول بنے (مثلاً امن، محبت، خیر) وہ خود انسان کی اپنی تخلیق تھی۔ انسانی ذہن کے باہر ان کا کوئی ذاتی وجود نہ تھا۔ پھر اپنے تخلیق کئے ہوئے معبود کے بارے میں کوئی شخص سنجیدہ ہوتا تو کیوں ہوتا۔

اس مسئلے کا واحد حل خدا کا عقیدہ ہے، خدا ایک حقیقی وجود ہے۔ وہ ہمارا خالق اور مالک ہے۔ وہ آج بھی ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے سارے عالم کو اپنے قبضہ میں لئے ہوئے ہے۔ تمام چیزیں مکمل طور پر اس کی محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ایسے خدا کو ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کائنات میں آدمی اپنے آپ کو ”دوسرے درجہ‘‘ پر رکھ رہا ہے۔ وہ خدا کو ہر اعتبار سے اول حیثیت دے کر خود ہر اعتبار سے دوسری حیثیت پر راضی ہو گیا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ خیال پوری طرح بیٹھ جائے، جو اپنے سارے دل و دماغ کے ساتھ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو دوسرے درجہ کی حیثیت دینے پر راضی ہو جائے ۔ وہ عین وہی انسان بن جاتا ہے جس کو تمام دنیا کے مفکرین تلاش کر رہے ہیں مگر وہ اس کو کہیں نہیں پاتے۔

انسان کی نفسیات ایک بسیط شے ہے۔ نفسیات میں تقسیم ممکن نہیں۔ اگر کسی کی نفسیات حقیقی معنوں میں یہ بن جائے کہ اس کا کائنات میں وہ خدا کے مقابلہ میں ”دوسرے درجہ پر ہے تو انسانوں کے مقابلہ میں بھی اس کے اندر یہی مزاج بنے گا۔ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کہ اس کائنات میں وہ دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتا ہے، اس سے ”اول درجہ‘‘ والا بننے کا احساس چھین لے گا۔ اس کی انانیت بے نفسی میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس کی سرکشی تواضع کی صورت اختیار کرلے گی۔ اس کی ڈھٹائی اعتراف کے روپ میں ڈھل جائے گی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں جو بہتر سماج بناتے ہیں۔ جہاں لوگوں کے اندر یہ مزاج آجائے وہاں نہ انفرادی جھگڑوں کا کوئی وجود ہوگا اور نہ قومی جھگڑوں کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page