Al-Risala · March 1981 · page 4

ٹوٹا ہوا پتھر

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۴

ٹوٹا ہوا پتھر

لال قلعہ کی سیر کرنے والا جب اس کی بلند و بالا عمارتوں سے گزر کر اس کے "میوزیم" میں پہنچتا ہے تو وہاں جو چیزیں اسے دیکھنے کو ملتی ہیں ان میں سے ایک وہ ٹوٹا ہوا پتھر ہے جو وسیع ہال کے ایک کونے میں رکھا ہوا ہے ۔

اس پتھر پر قدیم زمانہ کے کسی "خاص محل" کا قطعہ تاریخ کندہ ہے جو مغل بادشاہ نے ۱۶۴۱ء میں بنوایا تھا۔ مگر یہ خاص محل آج کہیں موجود نہیں ہے۔ البتہ یہ پتھر دہلی کے پرانے قلعہ میں پڑا ہوا پایا گیا تھا۔ وہاں سے اٹھا کر اس کو لال قلعہ کے میوزیم میں دوسری تاریخی چیزوں کے ساتھ رکھ دیا گیا۔ اس ٹوٹے ہوئے پتھر پر جو فارسی قطعہ عمدہ کتابت کے ساتھ درج ہے اس کا ایک مصرعہ یہ ہے: همیشه باد بزیر سپہر بو قلموں یعنی "خاص محل" تعمیر کرانے والے بادشاہ کی سلطنت آسمان کے نیچے ہمیشہ قائم رہے۔ مگر آج نہ خاص محل ہے اور نہ اس کا بنانے والا بادشاہ۔ اور نہ اس شاعر کا کہیں وجود ہے جس نے بادشاہ اور اس کے محل میں دائمی عظمت کا نشان دیکھا تھا۔ صرف ایک ٹوٹا ہوا پتھر اس بات کی یادگار کے طور پر باقی ہے کہ تین سو برس پہلے اس ملک میں ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تھا کہ بادشاہ نے اپنی عظمت و اقتدار کے نشان کے طور پر ایک محل بنایا اور وقت کے فن کار نے منظوم الفاظ میں اس کی تصدیق کی ۔ اور پھر اس لفظی تصدیق کو پتھری تختی پر کندہ کر دیا گیا۔ جب بھی کسی کو زمین پر اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ اس کا اقتدار ہمیشہ باقی رہے گا۔ وہ وقتی واقعہ کو مستقل واقعہ سمجھ لیتا ہے۔ مگر زمانہ نے کبھی کسی حکمران کے اس خیال کی تائید نہیں کی ۔ مگر عجیب بات ہے کہ اگلا حکمران جو پچھلے حکمران کے محل کے "ٹوٹے ہوئے پتھر" کو میوزیم میں رکھتا ہے وہ دوبارہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کا اقتدار ہمیشہ زمین پر باقی رہے گا۔

دنیا کا سب سے زیادہ عام واقعہ یہ ہے کہ آدمی پر موت آتی ہے۔ وہ عروج و زوال کے قانون کا شکار ہوتا ہے۔ مگر آدمی اس سب سے زیادہ عام بات سے سب سے کم نصیحت لیتا ہے۔ شاید اس سے زیادہ انوکھی بات اس زمین پر اور کوئی نہیں۔

ہر زندگی جو آج شاندار اور کامیاب دکھائی دیتی ہے وہ کل ایک "ٹوٹا ہوا پتھر" بن جاتی ہے۔ ہر پھول مرجھاتا ہے اور ہر مکان کھنڈر بن جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدمی اس سے کوئی سبق نہیں لیتا۔ ٹوٹے ہوئے پتھروں کے ہجوم میں وہ اپنے بارے میں یہی سمجھتا رہتا ہے کہ اس کا پتھر کبھی نہیں ٹوٹے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page