بے فائدہ باتیں
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۵
بے فائدہ باتیں
مولانا اشرف علی تھانوی (۱۸۶۳ء۔ ۱۹۴۳ء) کو ایک شخص نے خط لکھا اور یہ دریافت کیا کہ فلاں شرعی مسئلہ کی حکمت کیا ہے۔ مولانا تھانوی نے جواب میں لکھا: حکمت کا سوال کرنے میں کیا حکمت ہے، تم خدا کے فعل کی حکمت ہم سے پوچھتے ہو، ہم خود تمھارے فعل کی حکمت تم سے پوچھتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کا یہ عجیب مزاج ہوتا ہے کہ وہ غیر ضروری سوالات کرتے رہتے ہیں۔ انھیں اس کی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنا احتساب کریں، اپنی ذمہ داریوں پر دھیان دیں۔ البتہ خارجی مسائل میں موشگافیاں نکالنے اور ان کی حکمتیں معلوم کرنے کا انھیں بہت شوق ہوتا ہے۔ یہ ذہن قطعا غیر اسلامی ہے جن لوگوں کا ذہنی ڈھانچہ اس قسم کا بن جائے وہ کبھی حق کو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
کمانے اور گھر بنانے کا معاملہ ہو تو ہر آدمی اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ ہر آدمی کو سب سے زیادہ فکر یہ ہوتی ہے کہ اس کی کمائی اچھی ہو جائے اور اس کا مکان اچھا بن جائے۔ مگر دین اور آخرت کا معاملہ ہو تو ہر آدمی ایسے مسائل پر بحث کرنا پسند کرتا ہے جس کا تعلق اس کی اپنی ذات سے نہ ہو۔
ایک بزرگ جنھوں نے ایک بڑے ادارہ میں ۳۰ سال فتویٰ نویسی میں گزارے تھے، انھوں نے کہا کہ اس پوری مدت میں ہمارے پاس جو استفتار آتے رہے وہ زیادہ تر دوسروں کے بارے میں تھے۔ اپنے بارے میں بہت کم ہم سے کسی نے سوال کیا۔ فلاں کی جائداد میں میرا کتنا حصہ بنتا ہے۔ فلاں شخص جو ایسا اور ایسا ہے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا ناجائز، وغیرہ۔ اس قسم کے سوالات تو بہت آتے رہے مگر کسی نے ہم سے یہ نہ پوچھا کہ اس کی اپنی شرعی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ وہ اپنے صاحب معاملہ کے حقوق کس طرح ادا کرے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کے درمیان کس طرح رہے۔ وہ اختلاف اور شکایت کے موقع پر لوگوں سے کس قسم کا سلوک کرے۔ فلاں شخص جس کو وہ ستا رہا ہے اس کو ستانا اس کے لئے جائز ہے یا ناجائز۔ فلاں آدمی جس کا اس نے پیسہ دبارکھا ہے وہ اس کو دبانا چاہئے یا نہیں دبا ناچاہئے۔ فلاں شخص جس کو وہ بے عزت کر رہا ہے وہ اس کے لئے درست ہے یا نہیں۔ آدمی دوسروں میں گم رہتا ہے حالاں کہ اس کو اپنے آپ میں گم ہونا چاہئے۔ وہ خارجی مسائل میں جیتا ہے حالاں کہ اس کو اپنے اندرونی مسائل میں جینا چاہئے۔ وہ دوسروں کے دین و ایمان کو ناپتا ہے حالاں کہ اس کو وہ پیمانہ حاصل کرنا چاہئے جس میں وہ اپنے دین و ایمان کو ناپ سکے ۔ باہر دوڑنے والے بد جانور کی خبر ہر ایک کو ہے مگر اپنے دماغ میں بغض اور انتقام کے جو جذ با فور بسیرا لئے ہوئے ہیں اس کی خبر کسی کو نہیں۔ عبادت گاہ کے باہر کا تماشا ہر ایک کو دکھائی دے رہا ہے مگر عبادت گاہ کے اندر ہونے والا تماشا کسی کو نظر نہیں آتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues