برداشت کا اصول
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۶
برداشت کا اصول
ایک ہندوستانی کہاوت ہے “ اگر کوئی کتا تمھیں کاٹے تو کیا تم بھی کتے کو کاٹو گے “ اس چھوٹے سے جملہ میں زندگی کی بڑی گہری حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں انسان کے ساتھ ”کتے“ بھی ہیں۔ اس لئے یہاں یہ واقعہ بھی ضرور پیش آئے گا کہ کبھی کوئی کتا انسان کو کاٹ لے۔ مگر اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ آدمی خود بھی کتے کو کاٹنے لگے۔ کیونکہ یہ نہ صرف مسئلہ کو بڑھانا ہے بلکہ اپنے آپ کو کتے کی سطح پر لے جانا ہے۔ اس لئے بہترین بات یہ ہے کہ جب کسی کے ساتھ یہ حادثہ پیش آئے کہ اس کو ایک کتا کاٹ کھائے تو وہ اس کو نظر انداز کرکے آگے بڑھ جائے۔ اپنے زخم کا علاج کرکے اپنی زندگی کے سفر کو جاری رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام دانش مند لوگوں نے غصہ، دشمنی اور انتقام جیسی چیزوں کو برا کہا ہے اور اس کے بجائے معاف کرنے اور بھلا دینے کو زندگی کی ترقی کا لازمی بتایا ہے۔ یہاں چند اقوال نقل کئے جاتے ہیں ۔
بدلہ لینے سے انسان اپنے دشمن جیسا ہو جاتا ہے اور بدلہ نہ لینے سے اس سے بہت زیادہ بہتر لیکن اپنے دشمن کے لئے اپنی بھٹی کو اتنا گرم نہ کر کہ وہ تجھ کو ہی جلا ڈالے شیکسپیئر دشمن کو معاف کر دینا دشمن سے انتقام لینے کا سب سے بہتر طریقہ ہے ہانس ہنس ہم خود اپنا برا کئے بغیر دوسروں کا برا نہیں کرسکتے ولسن ہہس برداشت کرنا زندگی کا ایک اصول ہے نہ کہ کمزوری مہاتما گاندھی جب دو آدمی آپس میں جھگڑیں تو سمجھ لو کہ دونوں غلطی پر ہیں ڈچ کہاوت کسی سے دشمنی کرنا اپنے ارتقا میں روک لگانا ہے ونوبا بھاوے دشمن کا لوہا بھلے ہی گرم ہو جائے مگر ہتھوڑا تو ٹھنڈا رہ کر ہی کام دے سکتا ہے سردار پٹیل نفسانی خواہشات کا جنون تھوڑی دیر رہتا ہے مگر اس کا پچھتاوا بہت دیر تک شیلر جس نے کسی دشمن کو معاف نہیں کیا وہ زندگی کی ایک عظیم خوشی سے محروم رہا لیومیٹر جہاں غصہ ہے سمجھ لو کہ وہاں تباہی بھی ضرور ہوگی گوسوامی تلسی داس اچھے مزاج کی بہترین علامت ہے برے مزاج کو برداشت کر لینا ایمرسن ان اقوال میں سے ایک ایک قول زندگی کی گہری حقیقت کو بیان کر رہا ہے۔ پہلی بات یہ کہ دوسروں کی طرف سے پیش آنے والی باتوں پر دشمن کو معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ بہادری ہے۔ یہ ایک مثبت عمل ہے۔ جو شخص ہیجانی واقعات پیش آنے کے باوجود لوگوں کو معاف کر دے وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ پر قابو رکھنے والا آدمی ہے۔ اور اپنے آپ پر قابو رکھنے سے بڑی کوئی بہادری نہیں۔
پھر یہ کہ انتقام نہ لینا خود بہت بڑا انتقام ہے ، جب کسی کی طرف سے برائی پیش آنے کے باوجود آدمی اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues