خو کی رحمت
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۳
طرح توفیق عمل کی بارش رکنے پر آپ کو چوکنّا ہو جانا چاہئے۔ آپ کو خدا سے دعا اور التجا کرنا چاہئے کہ وہ آپ کو اپنی مدد سے محروم نہ کرے۔
اگر آپ کو زندہ عبادت کی توفیق نہ مل رہی ہو۔ اگر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا شوق آپ سے رخصت ہو گیا ہو۔ اگر دوسروں کا بھلا دیکھ کر آپ خوش نہ ہوتے ہوں۔ اگر اپنے بھائیوں کی خدمت کرنے کا جذبہ آپ کے اندر نہ ابھرتا ہو۔ اگر آپ اپنے فائدہ کے پیچھے دوسرے کا نقصان بھول جاتے ہوں۔ اگر اپنے صاحب معاملہ کے ساتھ انصاف کرنا آپ کو گوارا نہ ہوتا ہو۔ کسی سے شکایت پیدا ہونے کے بعد اگر آپ اس کو معاف کرنے پر راضی نہ ہوتے ہوں۔ اگر اس طرح کی باتیں ہوں تو سمجھ لیجئے کہ آپ کے ایمان کی زمین سوکھی پڑی ہوئی ہے۔ آپ کے اوپر اللہ اپنی توفیق کی بارش نہیں برسار ہاہے۔ خدا کی رحمتوں کے چھینٹے سے محرومی نے آپ کے اسلام کے پودے کو خشک کر دیا ہے۔ اسی طرح آپ کو اس وقت بھی بے چین ہو جانا چاہئے جب کہ آپ اپنا یہ حال پائیں کہ آپ کے لئے اٹھیں دینی کاموں میں رغبت ہو جن میں آپ کی دنیا کھنڈت نہیں ہوتی۔ جس میں آپ کے مفادات پوری طرح محفوظ رہتے ہیں۔ جس میں سستی قیمتوں پر جنت کے دروازے کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس میں کچھ کئے بغیر کرنے کا تمغہ مل جاتا ہے۔ جس میں الفاظ بول کر عمل کا کریڈٹ حاصل ہوتا ہے۔ اس قسم کے "دین" ، کی طرف لپکنا اور نفس کو دبانے اور جذبات کی قربانی دینے والے دین سے بے پروا ہونا دین داری کی حالت نہیں بلکہ غفلت کی حالت ہے۔ اگر آپ کا یہ حال ہو کہ آپ اٹھیں دینی کاموں کی طرف دوڑتے ہوں جن میں دنیوی نفع ملنے والا ہو۔ جن میں شہرت اور عزت کی چاشنی ہو۔ جن میں آپ کی عوامی تصویر میں اضافہ ہوتا ہو۔ جن میں آپ اپنے کو نمایاں کرنے کے مواقع پارہے ہوں۔ جن میں عمل کی قیمت دنیوی صورت میں وصول ہوتی ہو۔ جن میں دینی کام کی قیمت لیڈری اور پیشوائی کی صورت میں مل رہی ہو۔ آپ دنیوی پہلو رکھنے والے دینی کام میں تو خوب تیزی دکھائیں اور جس دینی کام میں کوئی دنیوی چاشنی نہ ہو اس سے بے رغبت رہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کی توفیق میں حصہ پانے سے محروم ہیں۔ کیونکہ دولت اور عزت والے دین کی طرف دوڑنا دین کے نام پر اپنے نفس کی طرف دوڑنا ہے نہ کہ حقیقۃً خدا کے دین کی طرف دوڑنا۔ ایسی تمام حالتوں میں آپ کے لئے مطمئن ہونے کا موقع نہیں۔ آپ کو بے تاب ہو کر خدا کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ آپ کو خدا کی بارش رحمت کو اپنی طرف مائل کرنا چاہئے۔ قبل اس کے کہ آپ کا سوکھا ہوا پودا خدا کے باغ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔
نوٹ: یہ تقریر ۱۲ جولائی ۱۹۷۰ء کو اعظم گڑھ کے ایک اجتماع میں کی گئی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues