خدائی اہتمام
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴
خدائی اہتمام
یہود کو خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ تورات کی حفاظت کریں (بما استحفظوا من کتب اللہ، المائدہ) اس کے برعکس قرآن کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ: ہم نے قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں (واناله لحفظون، الحجر) اس سے معلوم ہوا کہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ان کی قوموں پر ڈالی گئی تھی، جب کہ قرآن کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے۔ پچھلی آسمانی کتابیں بھی اسی طرح خدا کی کتاب تھیں جس طرح قرآن خدا کی کتاب ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابوں کے حامل ان کتابوں کی حفاظت کے بارے میں اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کرسکے۔ یہ کتابیں اپنی اصلی صورت میں باقی نہ رہیں۔ مگر قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خدا نے خود لی تھی اس لئے قرآن خدا کی خصوصی مدد سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان سے خدا کے فرشتے اتریں گے اور وہ قرآن کو اپنے سایہ میں لئے رہیں گے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں اخروی حقیقتوں کو غیب میں رکھا گیا ہے۔ اس لئے یہاں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ فرشتے سامنے آکر قرآن کی حفاظت کرنے لگیں۔ موجودہ دنیا میں اس قسم کا کام ہمیشہ معمول کے حالات میں کیا جاتا ہے نہ کہ غیر معمولی حالات میں۔ یہاں قرآن کی حفاظت کا کام تاریخی اسباب اور چلتے پھرتے انسانوں کے ذریعہ لیا جائے گا تا کہ غیب کا پردہ باقی رہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ خدا نے اپنے وعدہ کو پوری تاریخ میں نہایت اعلیٰ پیمانہ پر انجام دیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے مختلف قوموں سے مدد لی ہے۔ نیز اس کام میں مسلمانوں کو بھی استعمال کیا گیا ہے اور غیر مسلموں کو بھی۔
پچھلے انبیاء کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کو بہت کم ایسے ساتھی ملے جو ان کے کتاب کی حفاظت کی مضبوط ضمانت بن سکتے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ نمایاں طور پر دوسرے انبیاء سے مختلف ہے۔ وفات سے تقریباً ڈھائی ماہ پہلے آپ نے حج کیا جس کو حجة الوداع کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر عرفات کے میدان میں ایک لاکھ چالیس ہزار مسلمان موجود تھے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخر وقت تک آپ کے اوپر ایمان لانے والے مردوں اور عورتوں کی کل تعداد کم از کم پانچ لاکھ ہو چکی ہوگی۔ یہ تعداد قدیم انسانی آبادی کے لحاظ سے بہت غیر معمولی ہے۔ آپ کے بعد یہ تعداد بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ملک کے ملک مسلمان ہوتے چلے گئے۔ اس طرح قرآن کی حفاظت کی پشت پر اتنا بڑا انسانی گروہ اکٹھا کر دیا گیا جو اس سے پہلے کسی آسمانی کتاب کی حفاظت کے لئے اکٹھا نہیں ہوا تھا۔
اس کے بعد دوسرا مددگار واقعہ یہ ظہور میں آیا کہ عرب میں اور عرب کے باہر مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues