Al-Risala · March 1981 · page 6

سچائی کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۶

سچائی کیا ہے

ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک سیدھی لکیر صرف ایک ہوتی ہے۔ اسی طرح بندے کو خدا تک پہنچانے والا سیدھا راستہ بھی کوئی ایک ہی راستہ ہو سکتا ہے۔ اسی راستہ کا نام سچائی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ سچائی کیا ہے اور اس کو کس طرح دریافت کیا جائے۔

ہماری خوش قسمتی سے سچائی جس طرح ایک ہے اسی طرح وہ میدان میں بھی تنہا ہے۔ یہاں کئی چیزیں نہیں ہیں جن کے درمیان انتخاب کا سوال ہو۔ یہاں تو ایک ہی چیز ہے اور ہمارے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس ایک کو مان لیں۔ یہ واحد سچائی محمد رسول اللہ کی تعلیمات ہیں۔ اگر آدمی سچائی کی تلاش میں فی الواقع سنجیدہ ہو تو وہ پائے گا کہ خدا نے اس کو انتخاب کی آزمائش میں نہیں ڈالا۔ خدا نے ہم کو ایک ایسی دنیا میں رکھا ہے جہاں انتخاب حق اور ناحق کے درمیان ہے نہ کہ حق اور حق کے درمیان۔ (یونس ۳۲) فلسفہ سچائی کی تلاش میں کم از کم پانچ ہزار سال سے سرگرداں ہے۔ مگر اس کی لمبی تلاش نے اس کو صرف اس مقام پر پہنچایا ہے کہ وہ خود اقرار کر رہا ہے کہ وہ آخری سچائی تک نہیں پہنچ سکا اور نہ کبھی پہنچ سکتا۔ فلسفہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ عقلی غور و فکر کے ذریعہ سچائی تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر عقل اپنی معلومات کے دائرہ میں غور کرتی ہے۔ اور سچائی کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں کوئی واقعی رائے قائم کرنے کے لئے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ کوئی فلسفی کبھی کائناتی معلومات تک نہیں پہنچ سکتا اس لئے وہ سچائی کے بارے میں کوئی قطعی رائے بھی قائم نہیں کر سکتا۔ سائنس نے اس معاملہ میں اپنے کو میدان میں کھڑا ہی نہیں کیا ہے۔ سائنس اپنی کھوج ان امور میں جاری کرتی ہے جہاں قابل اعادہ تجربات کے ذریعہ نتائج تک پہنچنا ممکن ہو۔ سائنس پھول کی کیمسٹری کو موضوع بحث بناتی ہے مگر وہ پھول کی مہک کو اپنی بحث سے خارج قرار دیتی ہے۔ کیونکہ پھول کے کیمیائی اجنار تولے اور ناپے جاسکتے ہیں مگر پھول کی مہک کو تولنے اور ناپنے کا کوئی ذریعہ سائنس کے پاس نہیں اس طرح سائنس نے اپنے دائرہ بحث کو خود ہی محدود کر لیا ہے۔ چنانچہ سائنس نے پیشگی یہ اقرار کر لیا ہے کہ وہ عالم حقائق کے صرف جزئی پہلو سے بحث کرتی ہے، وہ کلی حقائق کے بارے میں کوئی بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page