Al-Risala · March 1981 · page 7

سچائی کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۷

روحانی شخصیات کا دعویٰ ہے یا کم از کم ان کے ماننے والے عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ سچائی سے باخبر ہیں اور سچائی کے بارے میں قطعی معلومات دے سکتے ہیں۔ مگر اس عقیدہ کے لئے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ روحانی شخصیات اپنے دعوے کے مطابق جس ذریعہ سے سچائی تک پہنچتی ہیں وہ روحانی ریاضتیں ہیں۔ مگر نام نہاد روحانی ریاضتیں حقیقۃً جسمانی ریاضتیں ہیں اور جسمانی ریاضتوں کے ذریعہ روحانی دریافت بجائے خود ایک بے اصل بات ہے۔ دوسرے یہ کہ کوئی بھی روحانی شخصیت، اپنی ذات میں، ان محدودیتوں سے خالی نہیں ہے جو محدودیتوں کا شکار اس کے جیسے دوسرے تمام انسان ہیں۔ یہ دوسرے انسان اپنی جن محدودیتوں وجہ سے سچائی تک نہیں پہنچ سکتے وہی محدودیتیں خود ان روحانی شخصیتوں کی راہ میں بھی حائل ہیں۔ کسی بھی قسم کی ریاضت آدمی کو اس کی فطری محدودیتوں سے بالا نہیں کر سکتی، اس لئے کسی بھی قسم کی ریاضت اس کو مطلق سچائی تک نہیں پہنچا سکتی۔

اس کے بعد میدان میں صرف پیغمبر رہ جاتے ہیں۔ پیغمبر وہ انسان ہے جو یہ کہتا ہے کہ خدا نے اس کا انتخاب کیا ہے اور اس پر سچائی کا علم اتارا ہے تاکہ وہ اس کو دوسرے تمام لوگوں تک پہنچا دے۔ اپنی نوعیت کی حد تک یہی ایک دعویٰ ہے جو اس معاملہ میں قابل اعتبار ہے۔ کیونکہ سچائی کا حقیقی علم صرف خدا ہی کو ہو سکتا ہے جو ازلی و ابدی ہے اور تمام حقیقتوں سے براہ راست واقف ہے۔ خدا کا خدا ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ حقیقت کا کلی علم رکھتا ہو۔ اس لئے جو شخص یہ کہے کہ اس کو براہ راست خدا کی طرف سے سچائی کا علم پہنچا ہے اس کا دعویٰ یقیناً اس قابل ہے کہ اس معاملہ میں اس کا لحاظ کیا جائے۔ یہاں ایک سوال ہے۔ پیغمبر ہماری دنیا میں کوئی ایک نہیں بلکہ بہت سے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی کئی کی ہیں۔ پھر کس پیغمبر کو مانا جائے۔ تاہم آدمی اگر سچائی کی تلاش میں سنجیدہ ہو تو اس سوال کا جواب معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ خدا نے ماضی میں بہت سے لوگوں کو پیغمبری کے لئے چنا۔ مگر ایک کے سوا تمام پیغمبر اعتقادی پیغمبر ہیں نہ کہ تاریخی پیغمبر۔ ماضی کے کسی واقعہ کو ماننے کا واحد معیار انسان کے پاس یہ ہے کہ اس کو تاریخی اعتبار یت حاصل ہو۔ مگر یہ پیغمبر اس معیار پر پورے نہیں اترتے۔ جو لوگ پیغمبر ہونے کے مدعی ہوئے ہیں ان ان میں صرف ایک ہی پیغمبر ہیں جن کو پورے معنوں میں تاریخی اعتبار یت کا درجہ حاصل ہے۔ اور وہ پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بارے میں ہر بات تاریخی طور پر معلوم اور مسلم ہے۔ موجودہ زمانہ کی کسی شخصیت کے بارے میں ہم جتنا جانتے ہیں اس سے بھی زیادہ ہم پیغمبر عربی کے بارے میں جانتے ہیں۔ آپ کے سوا دوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page