Al-Risala · March 1981 · page 13

پیغمبر خدا کی تعلیمات

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۱۳

بندوں کے درمیان وہتے ہوئے آدمی کو ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اپنے علم کے مطابق اس سے اس کی کارگزاری کا حساب لے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ آدمی ظلم، جھوٹ، بغض، گھمنڈ حسد، خود غرضی، بد معاملگی، لوٹ کھسوٹ، دھاندلی، اور اس قسم کی دوسری اخلاقی برائیوں سے اپنے کو بچائے تاکہ خدا کی میزان میں وہ مجرم نہ ٹھہرے۔ اللہ سے ڈرنے والا بندوں کے معاملہ میں نڈر ہو کر نہیں رہ سکتا۔ جو لوگ بندوں کے ساتھ برا سلوک کریں گے ان کو خدا سے اپنے لئے اچھے سلوک کی امید نہ رکھنی چاہئے۔ خدا کے اچھے سلوک کا مستحق صرف وہ ہے جو خدا کے یہاں اس طرح پہنچے کہ اس نے خدا کے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہو۔ آپ نے بتایا کہ خدا کی زمین پر خدا کے بندوں کے لئے زندگی گزارنے کا صرف ایک ہی جائز طریقہ ہے۔ یہ کہ آدمی پوری زندگی اور تمام معاملات میں خدا کا فرماں بردار بن کر رہے۔ اس فرماں برداری کے آداب اور اصول قرآن میں لکھے ہوئے ہیں۔ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کا عملی نمونہ موجود ہے۔ اب تمام انسانوں کے لئے خدا کی پسندیدہ زندگی صرف یہ ہے کہ وہ قرآن سے اپنے لئے ہدایت حاصل کرے اور پیغمبر کے نمونہ کو دیکھتے ہوئے اس کے مطابق زندگی گزارے آپ نے جو دین پیش کیا ہے وہ آدمی کی پوری زندگی کے لئے ایک واضح نقشہ دیتا ہے اور ہر آدمی کو اسی نقشہ پر چلنا ہے۔ اس نقشہ کا ایک مختصر علامتی نظام پانچ خاص ارکان کی صورت میں مقرر کیا گیا ہے۔ یہ پانچ ارکان پوری اسلامی زندگی کے لئے بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں۔

اول کلمہ شہادت (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کا اقرار ہے۔ یہ کلمہ گویا وہ اعلان ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آدمی ایک دائرہ سے نکل کر دوسرے دائرہ میں داخل ہو گیا۔ وہ غیر اسلام کو چھوڑ کر اسلام کی صف میں آگیا۔ دوسری چیز نماز ہے۔ یعنی پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق روزانہ پانچ وقت خدا کی عبادت کرنا۔ تیسری چیز روزہ ہے۔ یعنی ہر سال رمضان میں پورے ایک مہینہ تک صبر و برداشت کا رہ عمل کرنا جس کو روزہ کہا جاتا ہے۔ چوتھی چیز زکوۃ ہے۔ یعنی آدمی اپنے مال میں سے مقرر طریقہ کے مطابق ہر سال خدا کا حق نکالے اور اس کو خدا کی مقرر کی ہوئی مددوں میں خرچ کرے۔ پانچویں چیز حج ہے۔ یعنی استطاعت کی صورت میں عمر میں کم از کم ایک بار بیت اللہ کا حج کرنا۔ آدمی جب یہ پانچ شرطیں پوری کرتا ہے تو وہ پیغمبر کی قائم کی ہوئی اسلامی برادری میں شامل ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page