موت کی طرف
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۳۵
اللہ جس کو چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے کہ گمراہ کرے تو اس کے سینہ کو بالکل تنگ کر دیتا ہے، جیسے اس کو آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اس طرح اللہ گندگی ڈال دیتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔ اور یہی تمھارے رب کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے واضح کر دی ہیں نشانیاں غور کرنے والوں کے لئے۔ انھیں کے لئے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے پاس۔ اور وہ ان کا مددگار ہے اس عمل کے سبب سے جو وہ کرتے رہے ۲۶-۱۲۵ حق اپنی ذات میں اتنا واضح ہے کہ اس کا سمجھنا کبھی کسی آدمی کے لئے مشکل نہ ہو۔ پھر بھی ہر زمانہ میں بے شمار لوگ حق کی وضاحت کے باوجود حق کو قبول نہیں کرتے۔ اس کی وجہ ان کے اندر کی وہ رکاوٹیں ہیں جو وہ اپنی نفسیات میں پیدا کر لیتے ہیں۔ کوئی اپنے آپ کو مقدس ہستیوں سے اتنا زیادہ وابستہ کر لیتا ہے کہ ان کو چھوڑتے ہوئے اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بالکل برباد ہو جائے گا۔ کسی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کا نظام ٹوٹنے کا اندیشہ اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ اس کے لئے حق کی طرف اقدام کرنا ممکن نہیں رہتا۔ کسی کو نظر آتا ہے کہ حق کو ماننا اپنی بڑائی کے مینار کو اپنے ہاتھ سے ڈھا دینا ہے۔ کسی کو محسوس ہوتا ہے کہ ماحول کے رواج کے خلاف ایک بات کو اگر میں نے مان لیا تو میں سارے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جاؤں گا۔ اس طرح کے خیالات آدمی کے اوپر اتنا مسلط ہو جاتے ہیں کہ حق کو ماننا اس کو ایک بے حد مشکل بلندی پر چڑھائی کے ہم معنی نظر آنے لگتا ہے جس کو دیکھ کر ہی آدمی کا دل تنگ ہونے لگتا ہو۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا نہیں ہوتے، جو حق کو ہر دوسری چیز سے اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ وہ پہلے سے سچے متلاشی بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لئے جب حق ان کے سامنے آتا ہے تو بلا تامل وہ اس کو پہچان لیتے ہیں اور تمام عذرات اور اندیشوں کو نظر انداز کر کے اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ خدا اپنے حق کو نشانیوں (اشاراتی حقائق) کی صورت میں لوگوں کے سامنے لاتا ہے۔ اب جو لوگ اپنے دلوں میں کمزوریاں لئے ہوئے ہیں وہ ان اشارات کی خود ساختہ تاویل کر کے اپنے لئے اس کو نہ ماننے کا جواز بنا لیتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے سینے کھلے ہوتے ہیں وہ اشارات کو ان کی اصل گہرائیوں کے ساتھ پا لیتے ہیں اور ان کو اپنے ذہن کی غذا بنا لیتے ہیں۔ ان کی زندگی فی الفور اس سیدھے راستہ پر چل پڑتی ہے جو خدا کی براہ راست رہنمائی میں طے ہوتا ہے اور بالآخر آدمی کو ابدی کامیابی کے مقام پر پہنچا دیتا ہے۔
خدا کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ عمل کی ہے نہ کہ کسی اور چیز کی۔ جو شخص عملی طور پر خدا کی فرماں برداری اختیار کرے گا وہی اس قابل ٹھیرے گا کہ خدا اس کی دست گیری کرے اور اس کو اپنے سلامتی کے گھر تک پہنچادے۔ یہ سلامتی کا گھر خدا کی جنت ہے جہاں آدمی ہر قسم کے دکھ اور آفت سے محفوظ رہ کر ابدی سکون کی زندگی گزارے گا۔ خدا کی یہ مدد افراد کو ان کے عمل کے مطابق موت کے بعد آنے والی زندگی میں ملے گی۔ لیکن اگر افراد کی قابل لحاظ تعداد دنیا میں خدا کی فرماں بردار بن جائے تو ایسی جماعت کو دنیا میں بھی اس کا ایک حصہ دے دیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues