Al-Risala · March 1981 · page 36

موت کی طرف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۳۶

اور جس دن اللہ ان سب کو جمع کرے گا، اے جنیوں کے گروہ تم نے بہت سے لے لئے انسانوں میں سے۔ اور انسانوں میں سے ان کے ساتھی کہیں گے اے ہمارے رب، ہم نے ایک دوسرے کو استعمال کیا اور ہم پہنچ گئے اپنے اس وعدہ کو جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا تھا۔ خدا کہے گا اب تمھارا ٹھکانا آگ ہے، ہمیشہ اس میں رہو گے مگر جو اللہ چاہے ۔ بے شک تمھارا رب حکمت والا علم والا ہے۔ اور اسی طرح ہم ساتھ ملا دیں گے گنہ گاروں کو ایک دوسرے سے، بہ سبب ان ان اعمال کے جو وہ کرتے تھے۔ اے جنوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمھارے پاس تمھیں میں سے پیغمبر نہیں آئے جو تم کو میری آیتیں سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے ڈراتے تھے۔ وہ کہیں گے ہم خود اپنے خلاف گواہ ہیں۔ اور ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں رکھا۔ اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بے شک ہم منکر تھے یہ اس وجہ سے کہ تمھارا رب بستیوں کو ان کے ظلم پر اس حال میں ہلاک کرنے والا نہیں کہ وہاں کے لوگ بے خبر ہوں ۳۱ - ۱۲۸ کسی کے گمراہ کرنے سے جب کوئی شخص گمراہ ہوتا ہے تو یہ ایک طرفہ معاملہ نہیں ہوتا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اپنا مقصد پورا کر رہے ہیں۔ شیطان جب آدمی کو سبز باغ دکھا کر اپنی طرف لے جاتا ہے تو وہ اپنے اس چیلنج کو صحیح ثابت کرنا چاہتا ہے جو اس نے آغاز تخلیق میں خدا کو دیا تھا کہ میں تیری مخلوق کے بڑے حصہ کو اپنا ہم نوا بنالوں گا (بنی اسرائیل (۶۱) دوسری طرف جو لوگ اپنے آپ کو شیطان کے حوالے کرتے ہیں ان کے سامنے بھی واضح مفادات ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جنوں کے نام پر اپنے سحر کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں یا اپنی شاعری اور کہانت کا رشتہ کسی جن استاد سے جوڑ کر عوام کے اوپر اپنی برتری قائم کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ تمام تحریکیں جو شیطانی ترغیبات کے تحت اٹھتی ہیں، ان کا ساتھ دینے والے بھی اسی لئے ان کا ساتھ دیتے ہیں کہ ان کو امید ہوتی ہے کہ اس طرح عوام کے اوپر آسانی کے ساتھ وہ اپنی قیادت قائم کر سکتے ہیں۔ کیونکہ خدائی پکار کے مقابلہ میں شیطانی نعرے ہمیشہ عوام کی بھیڑ کے لئے زیادہ پر کشش ثابت ہوئے ہیں۔

قیامت میں جب حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے گا تو یہ بات کھل جائے گی کہ جو لوگ بے راہ ہوئے یا جنھوں نے دوسروں کو بے راہ کیا انھوں نے کسی غلط فہمی کی بنا پر ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ حق کو نظر انداز کرنا تھا نہ کہ حق سے بے خبر رہنا۔ وہ دنیوی تماشوں سے اوپر نہ اٹھ سکے، وہ وقتی فائدوں کو قربان نہ کر سکے۔ ورنہ خدا نے اپنے خاص بندوں کے ذریعہ جو ہدایت کھولی تھی وہ اتنی واضح تھی کہ کوئی شخص حقیقت حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔ مگر ان کی دنیا پرستی ان کی آنکھوں کا پردہ بن گئی ۔ جاننے کے باوجود انھوں نے نہ جانا۔ سننے کے باوجود انھوں نے نہ سنا۔ آخرت میں وہ مصنوعی سہارے ان سے چھن جائیں گے جن کے بل پر وہ حقیقت سے بے پروا بنے ہوئے تھے۔ اس وقت ان کو نظر آ جائے گا کہ کس طرح ایسا ہوا کہ حق ان کے سامنے آیا مگر انھوں نے جھوٹے الفاظ بول کر اس کو رد کر دیا۔ کس طرح ان کی غلطی ان پر واضح کی گئی مگر خوبصورت تاویل کر کے انھوں نے سمجھا کہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے میں وہ کامیاب ہو گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page