Al-Risala · March 1981 · page 37

موت کی طرف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۳۷

اور ہر شخص کا درجہ ہے اس کے عمل کے لحاظ سے اور تمھارا رب لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں۔ اور تمھارا رب بے نیاز، رحمت والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو اٹھا لے اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھاری جگہ لے آئے، جس طرح اسے تم کو پیدا کیا دوسروں کی نسل سے۔ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ آ کر رہے گی اور تم خدا کو عاجز نہیں کر سکتے۔ کہو، اے لوگو تم عمل کرتے رہو اپنی جگہ پر، میں بھی عمل کر رہا ہوں۔ تم جلد ہی جان لو گے کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ یقیناً ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۳۵ - ۱۳۲، دنیا کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے مرتبہ میں فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق ٹھیک اس تناسب سے ہوتا ہے جو ایک آدمی اور دوسرے آدمی کی جدوجہد میں پایا جاتا ہے۔ کسی آدمی کی دانش مندی، اس کی محنت، مصلحتوں کے ساتھ اس کی رعایت جس درجہ کی ہوتی ہے اسی درجہ کی کامیابی اس کو یہاں حاصل ہوتی ہے۔ ایسا ہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ آخرت میں درجات اور مقامات کی تقسیم ٹھیک اسی تناسب سے ہوگی جس تناسب سے کسی آدمی نے دنیا میں اس کے لئے عمل کیا ہے۔ آخرت کے لئے بھی آدمی کو اسی طرح وقت اور مال خرچ کرنا ہے جس طرح وہ دنیا کے لئے اپنے وقت اور مال کو خرچ کرتا ہے۔ آخرت کے معاملہ میں بھی اس کو اسی طرح ہوشیاری دکھانی ہے جس طرح وہ دنیا کے معاملہ میں ہوشیاری دکھاتا ہے۔ آخرت کی باتوں میں بھی اس کو مصلحتوں اور نزاکتوں کی اسی طرح رعایت کرنا ہے جس طرح وہ دنیا کی باتوں میں مصلحتوں اور نزاکتوں کی رعایت کرتا ہے۔ جس خدا کے ہاتھ میں آخرت کا فیصلہ ہے وہ ایک ایک شخص کے احوال سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہ ہوگا کہ وہ ہر ایک کو وہی دے جو اس کے استحقاق کے بقدراس کو ملنا چاہئے۔

خدا نے امتحان اور عمل کی یہ جو دنیا بنائی ہے اس کے ذریعہ اس نے انسان کے لئے ایک قیمتی امکان کھولا ہے۔ وہ چند دن کی زندگی میں اچھے عمل کا ثبوت دے کر ابدی زندگی میں اس کا انجام پا سکتا ہے۔ اس نظام کو قائم کرنے سے خدا کا اپنا کوئی فائدہ نہیں۔ موجودہ لوگ اگر اس کے تخلیقی منصوبہ کو قبول نہ کریں تو خدا کو اس کی پروا نہیں۔ وہ ان کی جگہ دوسروں کو اٹھا سکتا ہے جو اس کے تخلیقی منصوبہ کو مانیں اور اپنے آپ کو اس کے ساتھ شامل کریں۔ حتیٰ کہ وہ ریگستان کے ذروں اور درخت کے پتوں کو اپنے وفادار بندوں کی حیثیت سے کھڑا کر سکتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جو سراسر حق اور انصاف پر قائم ہو وہاں ظالموں اور سرکشوں کو چھوٹ ملنا خود ہی بتا رہا ہے کہ یہ چھوٹ کوئی انعام نہیں ہے بلکہ ان کو ان کے آخری انجام تک پہنچانے کے لئے ہے۔ جو شخص حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور اس کے باوجود بظاہر اس کا کچھ نہیں بگڑتا اس کو اس صورت حال پر خوش نہیں ہونا چاہئے۔ یہ حالت سراسر وقتی ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ آدمی سے وہ سب کچھ چھین لیا جائے جس کے بل پر وہ سرکشی کر رہا ہے اور اس کو ہمیشہ کے لئے ایک ایسی بربادی میں ڈال دیا جائے جہاں سے کبھی اس نے نکلنا نہ ہو۔ جہاں نہ دوبارہ عمل کا موقع ہو اور نہ اپنے عمل کے انجام سے اپنے کو بچانے کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page