موت کی طرف
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۳۸
تدبر القرآن الانعام ۶ اور خدا نے جو کھیتی اور چو پائے پیدا کئے اس میں سے انہوں نے خدا کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے۔ پس وہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے ، ان کے گمان کے مطابق، اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا ہے۔ پھر جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔ کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ اور اس طرح بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوش نما بنا دیا ہے تاکہ ان کو برباد کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔ پس ان کو چھوڑ دو کہ اپنی افترا میں لگے رہیں ۳۵ - ۱۳۶ مشرکین میں یہ رواج تھا کہ وہ فصل اور مویشی میں سے اللہ کا اور بتوں کا حصہ نکالتے۔ اگر وہ دیکھتے کہ خدا کے حصہ کا جانور یا غلہ اچھا ہے تو اس کو بدل کر بتوں کی طرف کر دیتے ۔ مگر بتوں کا اچھا ہوتا تو اس کو خدا کی طرف نہ کرتے ۔ پیداوار کی تقسیم کے وقت بتوں کے نام کا کچھ حصہ اتفاقاً اللہ کے حصہ میں مل جاتا تو اس کو الگ کر کے بتوں کی طرف لوٹادیتے۔ اور اللہ کے نام کا کچھ حصہ بتوں کی طرف چلا جاتا تو اس کو نہ لوٹاتے۔ اسی طرح اگر کبھی نذر و نیاز کا غلہ خود استعمال کرنے کی ضرورت پیش آجاتی تو خدا کا حصہ لے لیتے مگر بتوں کے حصہ کو نہ چھوتے۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی بلا نازل ہو جائے۔ کہنے کے لئے وہ خدا کو مانتے تھے مگر ان کا اصل یقین اپنے بتوں کے اوپر تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی محسوس بتوں کو اسی لئے گھڑتا ہے کہ اس کو غیر محسوس خدا پر پورا بھروسہ نہیں ہوتا۔
یہی حال ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو زبان سے تو اللہ کو مانتا ہو مگر اس کا دل اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو۔ جو لوگ کسی زندہ یا مردہ ہستی کو اپنی عقیدتوں کا مرکز بنا لیں ان کا حال بھی یہی ہوتا ہے کہ جو وقت ان کے یہاں خدا کی یاد کا ہے اس میں تو وہ اپنے شریک کی یاد کو شامل کرلیتے ہیں۔ مگر جو وقت ان کے نزدیک اپنے شریک کی یاد کا ہے اس میں خدا کا تذکرہ انہیں گوارا نہیں ہوتا۔ شیفتگی اور وارفتگی کا جو حصہ خدا کے لئے ہونا چاہئے اس کا کوئی جزرہ وہ بآسانی اپنے شریکوں کو دے دیں گے۔ مگر اپنے شریک کے لئے وہ جس شیفتگی اور وارفتگی کو ضروری سمجھتے ہیں اس کا کوئی حصہ کبھی خدا کو نہیں پہنچے گا۔ جو مجلس خدا کی عظمت و کبریائی بیان کرنے کے لئے منعقد کی جائے اس میں ان کے شریکوں کی عظمت و کبریائی کا بیان تو کسی نہ کسی طرح داخل ہو جائے گا۔ مگر جو مجلس اپنے شریکوں کی عظمت و کبریائی کا چرچا کرنے کے لئے ہو وہاں خدا کی عظمت و کبریائی کا کوئی گزر نہ ہوگا۔
ان شریکوں کی اہمیت کبھی ذہن پر اتنا زیادہ غالب آتی ہے کہ آدمی اپنی اولاد تک کو اس کے لئے نثار کر دیتا ہے۔ اپنی اولاد کو خدا کے لئے پیش کرتا ہو تو وہ پیش نہیں کرے گا مگر اپنے شریکوں کی خدمت میں انہیں دیتا ہو تو وہ بخوشی اس کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے۔
اس قسم کی تمام چیزیں خدا کے دین کے نام پر کی جاتی ہیں مگر حقیقتاً وہ افترا ہیں۔ کیوں کہ یہ ایک ایسی چیز کو خدا کی طرف منسوب کرنا ہے جس کو خدا نے کبھی تعلیم نہیں کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues