Al-Risala · March 1981 · page 4

موت کی طرف

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۱، صفحہ ۴

تذکیر القرآن الانعام ۶ اور کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیتی ممنوع ہے، انھیں کوئی نہیں کھا سکتا سوا اس کے جس کو ہم چاہیں، اپنے گمان کے مطابق۔ اور فلاں چوپائے ہیں کہ ان کی پیٹھ حرام کر دی گئی ہے اور کچھ چوپائے ہیں جن پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے۔ یہ سب انھوں نے اللہ پر افترا کیا ہے۔ اللہ جلد ان کو اس افترا کا بدلہ دے گا۔ اور کہتے ہیں کہ جو فلاں قسم کے جانوروں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مردوں کے لئے خاص ہے اور وہ ہماری عورتوں کے لئے حرام ہے۔ اگر وہ مردہ ہو تو اس میں سب شریک ہیں۔ اللہ جلد ان کو اس کہنے کی سزا دے گا، بے شک اللہ حکمت والا علم والا ہے۔ وہ لوگ گھاٹے میں پڑ گئے جنھوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا نادانی سے بغیر کسی علم کے۔ اور انھوں نے اس رزق کو حرام کر لیا جو اللہ نے ان کو دیا تھا، اللہ پر بہتان باندھتے ہوئے۔ وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت پانے والے نہ بنے۔ (۳۸-۴۰)

قدیم عرب کے لوگ اپنے مذہب کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ مگر عملاً ان کے یہاں جو مذہب تھا وہ ایک خود ساختہ مذہب تھا جو ان کے پیشواؤں نے گھڑ کر ان کے درمیان رائج کر دیا تھا۔ پیدا وار اور چوپایوں کی جو تدریس خدا یا اس کے شریکوں کے نام پر پیش ہوتیں ان کے لئے ان کے یہاں بہت سی کڑی پابندیاں تھیں۔ مثلاً بحیرہ یا سائبہ (جانوروں) کو اگر ذبح کیا اور اس کے پیٹ سے زندہ بچہ نکلا تو اس کا گوشت صرف مرد کھائیں، عورتیں نہ کھائیں۔ اور اگر بچہ مردہ حالت میں ہو تو اس کو مرد عورت دونوں کھا سکتے ہیں۔ اسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ پر سوار ہونا یا ان کے اوپر بوجھ لادنا ان کے نزدیک حرام تھا۔ بعض جانوروں کی نسبت ان کا عقیدہ تھا کہ ان پر سوار ہوتے وقت یا ان کو ذبح کرتے وقت یا ان کا دودھ نکالتے وقت خدا کا نام نہیں لینا چاہئے۔

ایسے لوگ دین کے اصل تقاضے (اللہ سے تعلق اور آخرت کی فکر) سے انتہائی حد تک دور ہوتے ہیں۔ وہ روزانہ اللہ کے حدود کو توڑتے رہتے ہیں۔ البتہ کچھ غیر متعلق ظاہری چیزوں میں تشدد کی حد تک قواعد و ضوابط کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ شیطان کی نہایت گہری چال ہے۔ وہ لوگوں کو اصل دین سے دور کر کے کچھ دوسری چیزوں کو دین کے نام پر ان کے درمیان جاری کر دیتا ہے اور ان میں شدت کی نفسیات پیدا کر کے آدمی کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ کمال احتیاط کی حد تک خدا کے دین پر قائم ہے۔ عبادت کے ظواہر میں تشدد بھی اسی خاص نفسیات کی پیدا وار ہے۔ آدمی خشوع اور تضرع سے خالی ہوتا ہے اور بعض ظاہری آداب کا شدید التزام کر کے سمجھتا ہے کہ اس نے کمال ادائیگی کی حد تک عبادت کا فعل انجام دے دیا ہے۔

اس قسم کے لوگوں کی گمراہی اس سے واضح ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے قتل اولاد جیسے وحشیانہ فعل کو درست سمجھ لیا۔ وہ خدا کے پاکیزہ رزق سے لوگوں کو محروم کر دیتے ہیں۔ وہ معمولی مسائل پر لڑتے ہیں اور ان بڑی چیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جن کی اہمیت کو عقل عام کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1981 All issues

Printed page