مجھے آخرت تک جانا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲
تذکیر القرآن الانعام ۶ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی نیک کام کرنے والوں پر اپنی نعمت پوری کرنے کے لئے اور ہر بات کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ اپنے رب کے ملنے کا یقین کریں۔ اور اسی طرح ہم نے یہ کتاب اتاری ہے، ایک برکت والی کتاب ۔ پس اس پر چلو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ اس لئے کہ تم یہ نہ کہنے لگو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے۔ یا کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے۔ پس آ چکی تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت۔ تو اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے۔ جو لوگ ہماری نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں ہم ان کو ان کے اعراض کی پاداش میں بہت برا عذاب دیں گے۔ یہ لوگ کیا اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمھارا رب آئے یا تمھارے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ظاہر ہو۔ جس دن تمھارے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی آپہنچے گی تو کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لا چکا ہو یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہ کی ہو۔ کہو تم راہ دیکھو، ہم بھی راہ دیکھ رہے ہیں ۱۵۸ - ۱۵۵ خدا کی طرف سے جو کتاب آتی ہے اس میں اگرچہ بہت سی تفصیلات ہوتی ہیں مگر بالآخر اس کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے یہ کہ آدمی اپنے رب کی ملاقات پر یقین کرے۔ یعنی دنیا میں وہ اس طرح زندگی گزارے کہ وہ اپنے ہر عمل کے لئے اپنے آپ کو خدا کے یہاں جواب دہ سمجھتا ہو۔ اس کی زندگی ایک ذمہ دارانہ زندگی ہو نہ کہ آزاد اور بے قید زندگی۔ یہی پچھلی کتابوں کا مقصد تھا اور یہی قرآن کا مدعا بھی ہے۔
خدا نے بقیہ دنیا کو براہ راست اپنے جبری حکم کے تحت اپنا پابند بنا رکھا ہے۔ مگر انسان کو اس نے پورا اختیار دے دیا ہے۔ اس نے انسان کی ہدایت کا یہ طریقہ رکھا ہے کہ رسول اور کتاب کے ذریعہ دلائل کی زبان میں وہ لوگوں کو حق اور باطل سے باخبر کرتا ہے۔ دنیا میں خدا کی مرضی لوگوں کے سامنے دلیل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہاں دلیل کو ماننا خدا کو ماننا ہے اور دلیل کو جھٹلانا خدا کو جھٹلانا۔
قیامت کا دھماکہ ہونے کے بعد تمام چھپی ہوئی حقیقتیں لوگوں کے سامنے آجائیں گی۔ اس وقت ہر آدمی خدا اور اس کی باتوں کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر اس وقت کے ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔ ماننا وہی ماننا ہے جو حالت غیب میں ماننا ہو۔ ایمان دراصل یہ ہے کہ دیکھنے کے بعد آدمی جو کچھ ماننے پر مجبور ہوگا اس کو وہ دیکھے بغیر مان لے۔ جو شخص دیکھ کر مانے اس نے گویا مانا ہی نہیں۔
جو لوگ آج اختیار کی حالت میں اپنے کو خدا کا پابند بنالیں ان کے لئے خدا کے یہاں جنت ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ قیامت کے آنے کے بعد خدا کے آگے جھکیں گے ان کا جھکنا صرف ان کے جرم کو مزید ثابت کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انھوں نے، خود اپنے اعتراف کے مطابق، ایک ماننے والی بات کو نہ مانا، انھوں نے ایک کئے جانے والے کام کو نہ کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues