Al-Risala · April 1981 · page 23

مجھے آخرت تک جانا ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳

جنھوں نے اپنے دین میں راہیں نکالیں اور گروہ گروہ بن گئے تم کو ان سے کچھ سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہی ان کو بتا دے گا جو وہ کرتے تھے۔ جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لئے اس کا دس گنا ہے۔ اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو اس کو بس اس کے برابر بدلہ ملے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۶۰-۱۵۹ دین یہ ہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی کو اپنی زندگی میں برتر مقام نہ دے۔ وہ حق شناسی کی بنیاد پر تعلقات قائم کرے نہ کہ مفاد کی بنیاد پر، جس کی پہلی علامت والدین ہیں۔ وہ رزق کو خدا کا عطیہ سمجھے اور خدائی نظام میں مداخلت نہ کرے، اس معاملہ میں آدمی کی گمراہی اس کو قتل اولاد اور تحدید نسل کی حماقت تک لے جاتی ہے۔ وہ فحش اور بے حیائی کے کاموں سے بچے تاکہ برائی کے بارے میں اس کے دل کی حساسیت زندہ رہے وہ کم زور کا استحصال نہ کرے جس کا قریبی امتحان آدمی کے لئے یتیم کی صورت میں ہوتا ہے۔ وہ حقوق کی ادائیگی اور لین دین میں ترازو کی طرح بالکل ٹھیک ٹھیک رہے۔ وہ اپنی زبان کا استعمال ہمیشہ حق کے مطابق کرے۔ وہ اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ ہر حال میں وہ عہد خداوندی میں بندھا ہوا ہے، وہ کسی بھی وقت خدائی عہد کی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں ہے۔ یہی کسی آدمی کے لئے خدا کی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا سیدھا راستہ ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ دائیں اور بائیں بھٹکے بغیر اس سیدھے راستہ پر ہمیشہ قائم رہے۔

اوپر جو دس احکام (۱۵۳-۱۵۱) بیان ہوئے وہ سب سادہ فطری احکام ہیں۔ ہر آدمی کی عقل ان کے سچے ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ اگر صرف ان چیزوں پر زور دیا جائے تو کبھی اختلاف اور فرقہ بندی نہ ہو۔ مگر جب قوموں پر زوال آتا ہے تو ان میں ایسے رہنما پیدا ہوتے ہیں جو ان سادہ احکام میں طرح طرح کی غیر فطری شقیں نکالتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو دینی اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔

توحید میں اگر یہ بحث چھیڑی جائے کہ خدا جسم رکھتا ہے یا وہ بغیر جسم ہے۔ یتیم کے معاملہ میں موشگافیاں کی جائیں کہ یتیم ہونے کی شرائط کیا ہیں۔ یا یہ نکتہ نکالا جائے کہ ان خدائی احکام پر اس وقت تک عمل نہیں ہو سکتا جب تک حکومت پر قبضہ نہ ہو۔ اس لئے سب سے پہلا کام "غیر اسلامی" حکومت کو بدلنا ہے۔ اس قسم کی بحثیں اگر شروع کر دی جائیں تو ان کی کوئی حد نہ ہوگی۔ اور ان پر عمومی اتفاق حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے بعد مختلف فکری حلقے بنیں گے۔ الگ الگ فرقے اور جماعتیں قائم ہوں گی۔ باہمی اتفاق باہمی افتراق کی صورت اختیار کرلے گا۔ اس سادہ اور فطری دین پر اپنی ساری توجہ لگانا سب سے بڑی نیکی ہے۔ مگر اس کے لئے آدمی کو نفس سے لڑنا پڑتا ہے۔ ماحول کی ناسازگاری کے باوجود صبر اور قربانی کا ثبوت دیتے ہوئے اس پر جمے رہنا ہوتا ہے۔ یہ ایک بڑا پُر مشقت عمل ہے اس لئے اس کا بدلہ بھی خدا کے یہاں کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے۔ جو لوگ برائی کرتے ہیں، جو خدا کی دنیا میں خدا کے مقرر راستہ کے سوا دوسرے راستوں پر چلتے ہیں وہ اگرچہ بہت بُرا جرم کرتے ہیں تاہم خدا ان کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرتا۔ وہ ان کو اتنی ہی سزا دیتا ہے جتنا انھوں نے جرم کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page