مجھے آخرت تک جانا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۴
تذکیر القرآن الانعام ۶ کہو میرے رب نے مجھ کو سیدھا راستہ بتا دیا ہے۔ دین صحیح ابراہیم کی ملت کی طرف جو یکسو تھے و مشرکین میں سے نہ تھے۔ کہو میری نماز اور میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو رب ہے سارے جہان کا۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں سب سے پہلے فرمانبردار ہوں۔ کہو ، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں جب کہ وہی ہمہ چیز کا رب ہے اور جو شخص بھی کوئی کمائی کرتا ہے وہ اسی پر رہتا ہے ۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ پھر تمھارے رب ہی کی طرف تمھارا لوٹنا ہے۔ پس وہ تمھیں بتا دے گا وہ چیز جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔ اور وہی ہے جس نے تمھیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بنایا اور تم میں سے ایک کا رتبہ دوسرے پر بلند کیا۔ تاکہ وہ آزمائے تم کو اپنے دئے ہوئے میں۔ تمھارا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ ۴۱-۶۵ قرآن کی صورت میں خدا نے اپنا وہ بے آمیز دین نازل کر دیا ہے جو اس نے حضرت ابراہیم اور دوسرے پیغمبروں کو دیا تھا۔ اب جو شخص خدا کی رحمت اور نصرت میں حصہ دار بننا چاہتا ہو وہ اس دین کو پکڑلے، وہ اپنی عبادت کو خدا کے لئے خاص کر دے، وہ خدا سے قربانی کی سطح پر تعلق قائم کرے، وہ جئے تو خدا کے لئے جئے اور اس کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ وہ ہر تن خدا کا بندہ بنا ہوا ہو۔ عظیم کائنات اپنے تمام اجزاء کے ساتھ اطاعت خداوندی کے اسی دین پر قائم ہے۔ پھر انسان اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ کیسے اختیار کر سکتا ہے۔ خدا کی اطاعت کی دنیا میں خدا کی سرکشی کا طریقہ اختیار کرنا کسی کے لئے کامیابی کا سبب کس طرح بن سکتا ہے۔ یہ معاملہ ہر شخص کا اپنا معاملہ ہے ۔ کوئی نہ کسی کے انعام میں شریک ہو سکتا اور نہ کوئی کسی کی سزا میں ۔ آدمی کو چاہئے کہ اس معاملہ میں وہ اسی طرح سنجیدہ ہو جس طرح دنیا میں کوئی مسئلہ کسی کا ذاتی مسئلہ ہو تو وہ اس میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ دنیا کا نظام یہ ہے کہ یہاں ایک شخص جاتا ہے اور دوسرا اس کی جگہ آتا ہے ۔ ایک قوم پیچھے ہٹادی جاتی ہے اور دوسری قوم اس کے بجائے زمین کے ذرائع و وسائل پر قبضہ کرلیتی ہے۔ یہ واقعہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ یہاں کسی کا اقتدار دائمی نہیں۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ جب کسی کو زمین پر موقع ملتا ہے تو وہ گزرے ہوئے لوگوں کے انجام کو بھول جاتا ہے۔ وہ اپنے ظلم اور سرکشی کو جائز ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے دلائل گھڑ لیتا ہے۔ مگر جب خدا حقیقتوں کو برہنہ کرے گا تو آدمی دیکھے گا کہ اس کی ان باتوں کی کوئی قیمت نہ تھی جن کو وہ اپنے موقف کے جواز کے لئے مضبوط دلیل سمجھے ہوئے تھا۔
دنیا میں آدمی کی سرکشی کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کی چیزوں کو اپنے حق میں خدا کا انعام سمجھ لیتا ہے، حالانکہ دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ صرف بطور آزمائش ہے نہ کہ بطور انعام ۔ دنیا کی چیزوں کو آدمی اگر انعام سمجھے تو اس کے اندر فخر پیدا ہوگا اور اگر وہ ان کو آزمائش سمجھے تو اس کے اندر عجز پیدا ہوگا۔ فخر کی نفسیات ڈھٹائی پیدا کرتی ہے اور عجز کی نفسیات اطاعت۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues