مجھے آخرت تک جانا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵
آیاتہا ۲۰۶ سورۃ الاعراف مکيہ رکوع اتہا ۲۴ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الف لام میم صاد۔ یہ کتاب ہے جو تمھاری طرف اتاری گئی ہے۔ پس تمھارا دل اس کے باعث تنگ نہ ہو تا کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ڈراؤ، اور وہ ایمان والوں کے لئے یاد دہانی ہے۔ جو اترا ہے تمھاری جانب تمھارے رب کی طرف سے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے سر پرستوں کی پیروی نہ کرو۔ تم بہت کم نصیحت مانتے ہو۔ اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا۔ ان پر ہمارا عذاب رات کو آپہنچا یا دو پہر کو جب کہ وہ آرام کر رہے تھے۔ پھر جب ہمارا عذاب ان پر آیا تو وہ اس کے سوا کچھ نہ کہہ سکے کہ واقعی ہم ظالم تھے۔ پس ہم کو ضرور پوچھنا ہے ان لوگوں سے جن کے پاس رسول بھیجے گئے اور ہم کو ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے۔ پھر ہم ان کے سامنے سب بیان کر دیں گے علم کے ساتھ اور ہم کہیں غائب نہ تھے۔ اس دن وزن دار صرف حق ہو گا ۔ پس جن کی تولیں بھاری ہوں گی وہی لوگ کامیاب ٹھہریں گے اور جن کی تولیں ہلکی ہوں گی وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا، کیونکہ وہ ہماری نشانیوں کے ساتھ نا انصافی کرتے تھے ۹-۱ خدا کی کتاب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نصیحت ہے۔ مگر وہ عملاً صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لئے نصیحت بنتی ہے جو اپنی فطری صلاحیت کو زندہ کئے ہوئے ہوں ۔ بقیہ لوگوں کے لئے وہ صرف اس برے انجام سے ڈرانے کے ہم معنی ہو کر رہ جاتی ہے جس کی طرف وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ داعی یہ دیکھ کر تڑپتا ہے کہ جو چیز مجھے کامل صداقت کے روپ میں دکھائی دے رہی ہے اس کو بیشتر لوگ باطل سمجھ کر ٹھکرا رہے ہیں۔ جو چیز میری نظر میں پہاڑ سے بھی زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ لوگ ایسا بے پروائی کا سلوک کر رہے ہیں جیسے اس کی کچھ حقیقت ہی نہ ہو، جیسے وہ بالکل بے اصل ہو۔
یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کے لئے موقع ہے کہ اگر وہ کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ اس کو نہ مانے، حتیٰ کہ وہ اس کو رد کرنے کے لئے خوبصورت الفاظ بھی پالے۔ مگر یہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک کھل جائے گا کہ داعی کی بات لو ہے اور پتھر سے بھی زیادہ ثابت شدہ تھی۔ یہ صرف مخالفین کا تعصب اور ان کی انانیت تھی جس نے انھیں دلیل کو دلیل کی صورت میں دیکھنے نہ دیا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ داعی حق کی باتوں کی رد میں جو دلیلیں وہ پیش کرتے تھے وہ محض دھاندلی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال۔ دنیا میں جو چیز کسی کو باوزن بناتی ہے وہ یہ کہ اس کے گرد مادی رونقیں جمع ہوں۔ وہ الفاظ کے دریا بہا نے کا فن جانتا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کی بھیڑ اکٹھا ہوگئی ہو۔ چونکہ حق کے داعی کے ساتھ عام طور پر یہ اسباب جمع نہیں ہوتے اس لئے دنیا کے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ مگر قیامت جب مصنوعی پر دوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل بر عکس ہو جائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues