مجھے آخرت تک جانا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶
اور ہم نے تم کو زمین میں جگہ دی اور ہم نے تمھارے لئے اس میں زندگی کا سامان فراہم کیا، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو- اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی۔ پھر فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ پس انھوں نے سجدہ کیا۔ مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ خدا نے کہا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا۔ ابلیس نے کہا کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آدم کو مٹی سے۔ خدا نے کہا کہ تو اتر یہاں سے۔ تجھے یہ حق نہیں کہ تو اس میں گھمنڈ کرے۔ پس نکل جا، یقیناً تو ذلیل ہے۔ ابلیس نے کہا کہ اس دن تک کی لئے تو مجھے مہلت دے جب کہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ خدا نے کہا کہ تجھ کو مہلت دی گئی۔ ابلیس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی لوگوں کے لئے تیری سیدھی راہ برپا بیٹھوں گا۔ پھر ان پر آؤں گا ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔ خدا نے کہا کہ نکل یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ۔ جو کوئی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۱۸- ۱۰ خدا نے انسان کو اس دنیا میں جو کچھ دیا ہے اس لئے دیا ہے کہ اس کا نفسیاتی جواب وہ شکر کی صورت میں پیش کرے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جس کو آدمی اپنے رب کے سامنے پیش نہیں کراتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان اس کے اندر دوسرے دوسرے جذبات ابھار کر اس کو شکر کے نفسیات سے دور کر دیتا ہے۔
آدم اور ابلیس کے قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہدایت اور گمراہی کا معرکہ کہاں پر ہے ۔ یہ معرکہ ان مواقع پر برپا ہے جہاں آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جاگتی ہیں۔ امتحان کی اس دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے اوپر اٹھ جاتا ہے کبھی کوئی شخص دولت و عزت میں دوسرے سے زیادہ حصہ پا لیتا ہے۔ کبھی دو آدمیوں کے درمیان ایسا معاملہ پڑتا ہے کہ ایک شخص کے لئے دوسرے کو اس کا جائز حق دینا اپنے کو نیچے گرانے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ کبھی کسی شخص کی زبان سے خدا ایک سچائی کا اعلان کرتا ہے اور وہ ان لوگوں کو اپنے سے برتر دکھائی دینے لگتا ہے جو اس سچائی تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ ایسے مواقع پر شیطان آدمی کے اندر حسد اور گھمنڈ کی نفسیات جگا دیتا ہے۔ ”میں بہتر ہوں“ کے جذبے سے مغلوب ہو کر وہ اپنے بھائی کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ یہی خدا کی نظر میں شیطان کے راستہ پر چلنا ہے۔ جس شخص نے ایسے مواقع پر حسد اور گھمنڈ کا طریقہ اختیار کیا اس نے اپنے کو جہنمی انجام کا مستحق بنا لیا جو شیطان کے لئے مقدر ہے اور جس نے ایسے مواقع پر شیطان کے پیدا کئے ہوئے جذبات کو اپنے اندر کچل ڈالا اس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ وہ اس قابل ہے کہ اس کو جنت کے باغوں میں بسایا جائے۔
جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لئے کسی کی فضیلت کا اعتراف دراصل خدا کی تقسیم کے برحق ہونے کا اعتراف ہے اور اس کی فضیلت کو نہ ماننا خدا کی تقسیم کو نہ ماننا ہے۔ اسی طرح جب ایک شخص کسی حق کی بنا پر دوسرے کے آگے جھکتا ہے تو وہ کسی آدمی کے آگے نہیں جھکتا بلکہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیونکہ ایسا وہ خدا کے حکم کی بنا پر کر رہا ہے نہ کہ اس آدمی کے ذاتی فضل کی بنا پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues