مجھے آخرت تک جانا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷
اور اے آدم، تم اور تمھاری بیوی جنت میں رہو اور کھاؤ جہاں سے چاہو۔ مگر اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا تاکہ وہ کھول دے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اس نے ان سے کہا کہ تمھارے رب نے تم کو اس درخت سے صرف اس لئے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جاؤ یا تم کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جائے۔ اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں ۲۱- ۱۹۔ جنت اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ آدم اور ان کی بیوی کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ اس میں طرح طرح کی چیزیں تھیں اور خدا کی طرف سے ان کو آزادی تھی کہ ان کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔ بے شمار جائز چیزوں کے درمیان صرف ایک چیز کے استعمال سے روک دیا گیا تھا۔ شیطان نے اسی ممنوعہ مقام سے ان پر حملہ کیا۔ اس نے وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ سکھایا کہ جس چیز سے روک گیا ہے وہی جنت کی اہم ترین چیز ہے۔ اسی میں تقدس اور ابدیت کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ آدم اور ان کی بیوی ابلیس کی مسلسل تلقین سے متاثر ہو گئے۔ اور بالآخر ممنوعہ درخت کا پھل کھا لیا۔ مگر جب انہوں نے ایسا کیا تو نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ ان کی اس خلاف ورزی نے خدا کا لباس حفاظت ان کے جسم سے اتار دیا۔ وہ اس دنیا میں بالکل بے یار و مددگار ہو کر رہ گئے جہاں اس سے پہلے ان کو ہر طرح کی سہولت اور حفاظت حاصل تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا وہ خاص حربہ کیا ہے جس سے وہ انسان کو بہکا کر خدا کی رحمت و نصرت سے دور کر دیتا ہے۔ وہ ہے حلال رزق کے پھیلے ہوئے میدان کو آدمی کی نظر میں کم کر کے دکھانا اور جو چند چیزیں حرام ہیں ان کو خوبصورت طور پر پیش کر کے یقین دلانا کہ تمام بڑے بڑے فائدوں اور مصلحتوں کا راز بس انہیں چند چیزوں میں چھپا ہوا ہے۔
شیطان اپنا یہ کام ہر ایک کے ساتھ اس کے اپنے ذوق اور حالات کے اعتبار سے کرتا ہے۔ کسی کو تمام قیمتی غذاؤں سے بے رغبت کر کے یہ سکھاتا ہے کہ شاندار تندرستی حاصل کرنا چاہتے ہو تو شراب پیو۔ کہیں لاکھوں بے روزگار مرد کام کرنے کے لئے موجود ہوں گے مگر وہ ترغیب دے گا کہ اگر ترقی کی منزل تک جلد پہنچنا چاہتے ہو تو عورتوں کو گھر سے باہر لا کر انھیں مختلف تمدنی شعبوں میں سرگرم کر دو۔ کسی کے پاس اپنے مخالف کو زیر کرنے کا یہ قابل عمل طریقہ موجود ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو مستحکم بنائے مگر شیطان اس کے کان میں ڈالے گا کہ تمھارے لیے اپنے مخالف کو شکست دینے کا سب سے زیادہ کارگر طریقہ یہ ہے کہ اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کر دو۔ کسی کے لیے اپنی تعمیر آپ" کے میدان میں کام کرنے کے لئے بے شمار مواقع کھلے ہوئے ہوں گے مگر وہ سکھائے گا کہ دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبہ کا طوفان برپا کرنا اپنے کو کامیابی کی طرف لے جانے کا سب سے زیادہ قریبی راستہ ہے۔ کسی کے سامنے حکومت وقت سے تصادم کے بغیر بے شمار دینی کام کرنے کے لئے موجود ہوں گے مگر وہ اس کو اس غلط فہمی میں ڈالے گا کہ غیر اسلامی حکمرانوں کو اگر کسی نہ کسی طرح پھانسی پر چڑھا دیا جائے یا ان کو گولی مار کر ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد آناً فاناً اسلام کا مکمل نظام سارے ملک میں قائم ہو جائے گا، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues