They are just like Jesus and Moses
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۷
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہت باندھے یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے حالاں کہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو۔ اور کہے کہ جیسا کلام خدا نے اتارا ہے میں بھی اتاروں گا۔ اور کاش تم اس وقت دیکھو جب یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھارہے ہوں گے کہ لاؤ اپنی جانیں نکالو۔ آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس سبب سے کہ تم اللہ پر جھوٹی باتیں کہتے تھے۔ اور تم اللہ کی نشانیوں سے تکبر کرتے تھے۔ اور تم ہمارے پاس اکیلے اکیلے آگئے جیسا کہ ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ اور جو کچھ اسباب ہم نے تم کو دیا تھا سب تم پیچھے چھوڑ آئے۔ اور ہم تمہارے ساتھ ان سفارش والوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمھارا کام بنانے میں ان کا بھی حصہ ہے۔ تمھارا رشتہ ٹوٹ گیا اور تم سے جاتے رہے وہ دعوے جو تم کرتے تھے ۴ - ۹۳ اللہ جب اپنے کسی بندے کو اپنی پکار بلند کرنے کے لئے کھڑا کرتا ہے تو اسی کے ساتھ اس کو خصوصی توفیق بھی عطا کرتا ہے۔ اس کے کردار میں خوف آخرت کی جھلک ہوتی ہے۔ اس کی باتوں میں خدائی استدلال کی طاقت نظر آتی ہے بے پناہ مخالفتوں کے باوجود وہ اپنے پیغام رسانی کے عمل کو اعلیٰ ترین شکل میں جاری رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدائی زمین پر خدا کی نشانی ہوتا ہے۔ مگر جن کی نگاہیں دنیوی عظمت کی چیزوں میں گم ہوں وہ آخرت کے داعی کی عظمت کو سمجھ نہیں پاتے۔ حتیٰ کہ ان کے مادی پیمانہ میں ان کی اپنی ذات برتر اور اللہ کے دائی کی ذات کم تر دکھائی دیتی ہے۔ یہ چیز ان کو تکبر میں مبتلا کردیتی ہے اور جو لوگ تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں ان سے کوئی بھی نامعقول رویہ مستبعد نہیں رہتا۔ حتیٰ کہ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ وہ بھی ویسا ہی کلام تخلیق کر سکتے ہیں جیسا کلام خدا کی طرف سے کسی بندہ پر اترتا ہے ۔ ۔ ۔ وہ خدا کو طلسماتی نشانیوں میں دیکھنا چاہتے ہیں اس لئے وہ بشری نشانیوں میں ظاہر ہونے والے خدا کو پہچان نہیں پاتے۔
یہ تکبر کسی آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے وہ اس دنیوی حیثیت اور مادی سامان کی بنا پر ہوتا ہے جو اس کو دنیا میں ملا ہوا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ اسے حاصل ہے وہ محض آزمائش کے لئے اور متعین مدت تک کے لئے ہے۔ موت کا وقت آتے ہی اچانک یہ تمام چیزیں چھن جائیں گی۔ اس کے بعد آدمی اسی طرح محض ایک تنہا وجود ہوگا جس طرح وہ ابتدائی پیدائش کے وقت ایک تنہا وجود تھا - موت کے فوراً بعد ہر آدمی اپنی زندگی کے اس مرحلہ میں پہنچ جاتا ہے جہاں نہ اس کی دولت ہوگی اور نہ اس کی حیثیت ، جہاں نہ اس کے ساتھی ہوں گے اور نہ اس کے سفارشی ۔ وہ ہوگا اور اس کا خدا ہوگا۔ دنیا میں اس کو جن چیزوں پر ناز تھا ان میں سے کوئی چیز بھی اس دن اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے کے لئے موجود نہ ہوگی۔
دنیا میں ہر آدمی الفاظ کے طلسم میں جیتا ہے۔ ہر آدمی اپنے حسب حال ایسے الفاظ تلاش کر لیتا ہے جس میں اس کا وجود بالکل برقی دکھائی دے، اس کا راستہ سیدھا منزل کی طرف جاتا ہوا نظر آئے۔ مگر آخرت کا انقلاب حقیقتوں کے پردے پھاڑ دے گا تو لوگوں کے یہ الفاظ اس قدر بے معنی ہو جائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues