They are just like Jesus and Moses
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۸
تذکیر القرآن الانعام ۶ بے شک اللہ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا ہے۔ وہ جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بے جان کو جان دار سے نکالنے والا ہے۔ وہی تمھارا اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جارہے ہو۔ وہی صبح آمد کرنے والا ہے صبح کا اور اس نے رات کو سکون کا وقت بنایا اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے۔ یہ ٹھہرایا ہوا ہے بڑے غلبہ والے کا، بڑے علم والے کا۔ اور وہی ہے جس نے تمھارے لئے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ذریعہ سے خشکی اور تری کے اندھیروں میں راہ پاؤ۔ بے شک ہم نے دلائل کھول کر بیان کر دئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں ۹۵-۹۷ انسان کو جب ایک موٹر کار یا اور کوئی چیز بنانا ہوتا ہے تو وہ اس کے ہر جز کو الگ الگ بناتا ہے۔ اور پھر اس کے اجزاء کو جوڑ کر مطلوبہ چیز تیار کرتا ہے، مگر خدا جب ایک درخت اگاتا ہے یا ایک انسان پیدا کرتا ہے تو اس کی نوعیت بالکل دوسری ہوتی ہے۔ وہ کسی چیز کو اس کے پورے مجموعے کے ساتھ بیک وقت بر آمد کر دیتا ہے۔ خدائی کارخانہ میں پورا کا پورا درخت یا پورا کا پورا انسان ایک ہی بیج یا ایک ہی بوند سے بتدریج نکل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ انتہائی انوکھی تکنیک ہے جس پر کسی بھی انسان کو قابو نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں انسان سے برتر ایک ہستی موجود ہے جس کا منصوبہ تمام منصوبوں سے بلند ہے۔
سورج کی جسامت زمین سے بارہ لاکھ گنا زیادہ ہے۔ اور زمین چاند سے چوگنا زیادہ بڑی ہے۔ یہ سب اجرام مسلسل حرکت میں ہیں۔ چاند زمین سے تقریبا ڈھائی لاکھ میل دور رہ کر زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے اور زمین سورج سے تقریبا ساڑھے نو کروڑ میل کے فاصلے پر رہتے ہوئے سورج کے گرد دو طریقے سے گھوم رہی ہے، ایک اپنے محور پر اور دوسرے سورج کے مدار پر۔ اسی طرح ستاروں کی گردش کا معاملہ ہے جو دہشت ناک حد تک بعید فاصلوں پر حد درجہ باقاعدگی کے ساتھ متحرک ہیں۔ اسی کائناتی تنظیم سے دن اور رات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی سے اوقات کا نقشہ مقرر ہوتا ہے۔ اسی سے خشکی اور تری میں انسان کے لئے اپنی زندگی کی ترتیب قائم کرنا ممکن ہوتا ہے یہ اتنا بڑا نظام اتنی صحت کے ساتھ چل رہا ہے کہ ہزاروں سال میں بھی اس کے اندر کوئی فرق نہیں آتا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسی ہستی ہے جس کی طاقتیں لامحدود حد تک زیادہ ہیں۔
خدا کی یہ نشانیاں بہت بڑے پیمانے پر بتا رہی ہیں کہ اس کارخانہ کا بنانے والا بہت بڑے علم والا ہے ۔ کوئی بے علم ہستی اتنا بڑا ڈھانچہ قائم نہیں کر سکتی۔ وہ بہت غلبہ والا ہے ، اس کے بغیر اتنے بڑے کارخانہ کا اس طرح چلنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس کی منصوبہ بندی انتہائی حد تک کامل ہے ۔ اگر ایسا ہو تو اتنی بڑی کائنات میں اس قدر معنویت اور ہم آہنگی کا وجود نا ممکن ہو جائے۔
خدا کی دنیا خدا کے دلائل سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دلیل ایک نظری معقولیت کا نام ہے نہ کہ کسی ہتھوڑے کا ۔ اس لئے دلیل کو ماننا کسی کے لئے صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ وہ فی الواقع سنجیدہ ہو، وہ شعوری طور پر اس کے لئے تیار ہو کہ وہ دلیل کو مان لے گا خواہ وہ اس کی موافقت میں جارہی ہو یا اس کے خلاف ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues