خلق قرآن
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳۳
خلق قرآن
قدیم عیسائی متکلمین نے اپنی فلسفیانہ مو شگافیوں کے تحت یہ مسئلہ پیدا کیا تھا کہ خدا کا کلام ذات خداوندی کا حصہ ہے یا عام مخلوقات کی طرح وہ ذات خداوندی سے الگ ہے۔ انہوں نے اس کو ذات خداوندی کا حصہ قرار دیا۔ نئے عہد نامہ میں یوحنا کی انجیل کا پہلا فقرہ یہ ہے " ابتدا میں کلام تھا۔ اور کلام خدا کے ساتھ تھا۔ اور کلام خدا تھا۔ یہی ابتدا میں خدا کے ساتھ تھا۔ سب چیزیں اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں ۔ اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اس میں سے کوئی چیز بھی اس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی ۔ “ دوسری صدی ہجری میں جو معتزلی علماء پیدا ہوئے وہ قدیم فلسفیانہ طرز فکر سے متاثر تھے اور عقائد میں موشگافیاں کر کے نئے نئے مسائل پیدا کرنے کا خاص ذوق رکھتے تھے۔ چنانچہ عیسائی متکلمین کی پیروی میں انھوں نے اسلام میں بھی اسی قسم کی بحثیں شروع کیں۔ اسی ذیل میں انھوں نے وہ عقیدہ نکالا جو خلق قرآن کے نام سے مشہور ہے۔ خلق قرآن کا مطلب ان کے نزدیک یہ تھا کہ جس طرح سورج، چاند وغیرہ سب خدا کی مخلوقات ہیں ٹھیک اسی طرح قرآن بھی خدا کی ایک مخلوق ہے۔ خدا نے سارے عالم کو کن فیکون کے ذریعہ پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے قرآن کو بھی کن فیکون کے ذریعہ پیدا کیا ہے۔ اس مسئلہ میں انہوں نے اتنا غلو کیا کہ اس کو کفر و ایمان کا معیار بنا دیا۔ ان کے نزدیک جو شخص قرآن کو مخلوق (پیدا کیا ہوا) کہے وہ مومن تھا اور جو اس کو مخلوق نہ کہے وہ کافر۔ امام احمد بن حنبل اور محدثین کی ایک جماعت نے اس معاملہ میں معتزلہ کے بالکل برعکس مسلک اختیار کیا۔ انھوں نے معتزلہ کے نقطہ نظر کی شدت کے ساتھ تردید کی اور کہا کہ قرآن غیر مخلوق ہے۔ یعنی وہ کسی وقت خاص میں پیدا نہیں کیا گیا۔ بلکہ جس طرح خدا کی ذات ہمیشہ سے ہے اسی طرح اس کا کلام بھی ہمیشہ سے ہے۔
خلق قرآن کا مسئلہ باعتبار حقیقت کفر و اسلام کا مسئلہ نہ تھا۔ یہ محض ایک تفنن یا بے فائدہ قسم کی مو شگافی تھی۔ چنانچہ امام بخاری (۵۲۵۶۔ ۱۹۳ھ) اس معاملہ میں خاموشی کو پسند کرتے تھے۔ امام بخاری جب نیشاپور پہنچے تو کچھ لوگوں نے الفاظ قرآن کے بارے میں ان کی رائے پوچھی۔ امام صاحب نے ٹال دیا۔ پھر پوچھا گیا تو پھر ٹال دیا۔ مگر بار بار کے سوال پر ان کو اس موضوع پر بولنا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ امام بخاری نے اس سوال کے جواب میں فرمایا : القرآن کلام الله غير مخلوق ۔ الفاظنا من افعالنا قرآن اللہ کا کلام غیر مخلوق ہے۔ الفاظ ہمارے افعال و افعالنا مخلوقة - والامتحان عنه بدعة میں سے ہیں اور ہمارے افعال مخلوق ہیں۔ اس مسئلہ میں کسی کی آزمائش کرنا بدعت ہے۔
امام بخاری کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ قرآن کلام الہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ مگر اس کو پڑھتے وقت ہم اپنی زبان سے جو الفاظ نکالتے ہیں وہ ہمارا اپنا فعل ہوتا ہے۔ اس طرح انھوں نے متلو اور تلاوت کے درمیان فرق کیا۔ متلو فعل الہی تھا اس لئے قدیم تھا۔ اور تلاوت انسانی فعل تھا اس لئے وہ حادث تھا (کتاب الاسماء والصفات)
‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues