Al-Risala · January 1981 · page 19

They are just like Jesus and Moses

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹

ار وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک جان سے ، پھر ہر ایک کے لئے ایک ٹھکےنا ہے اور ہر ایک کے لئے اس کے سونپے جانے کی جگہ ۔ ہم نے دلائل کھول کر بیان کر دئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھیں۔ اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر ہم نے اس سے نکالی اگنے والی ہر چیز ۔ پھر ہم نے اس سے سر سبز شاخ نکالی جس سے ہم تہ بہ تہ دانے پیدا کر دیتے ہیں۔ اور کھجور کے گابھے میں سے پھل کے گچھے جھکے ہوئے اور باغ انگور کے اور زیتون کے اور انار کے ، آپس میں ملتے جلتے اور جدا جدا بھی۔ ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے۔ اور اس کے پکنے کو دیکھو جب وہ پکتا ہے۔ بے شک ان کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان کی طلب رکھتے ہیں ۹۸-۹۹ انسانی کارخانے اس پر قادر نہیں کہ وہ ایک ایسی مشین بنا دیں کہ اس کے بطن سے اسی قسم کی بے شمار مشینیں خود بخود نکلتی چلی جائیں۔ ہمارے کارخانوں کو ہر مشین الگ الگ بنانی پڑتی ہے۔ مگر خدا کا کارخانہ میں یہ واقعہ ہر روز ہورہا ہے۔ درخت کا ایک بیج بودیا جاتا ہے۔ پھر اس بیج سے بے شمار درخت نکلتے چلے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ ایک مرد اور ایک عورت سے شروع ہو کر کھرب ہاکھرب انسان پیدا ہوتے چلے جا رہے ہیں اور ان کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ مشاہدہ بتاتا ہے کہ جس خدا نے کائنات کو پیدا کیا ہے اس کی قدرت بے حد و وسیع ہے۔ وہ اس نادر تخلیق پر قادر ہے کہ ایک ابتدائی چیز وجود میں لائے اور پھر اس کے اندر سے بے حساب گنا زیادہ بڑی بڑی چیزیں مسلسل نکلتی چلی جائیں۔ اسی طرح خدا موجودہ دنیا سے ایک زیادہ شان دار اور زیادہ معیاری دنیا نکال سکتا ہے۔ آخرت کا عقیدہ کوئی دور کا عقیدہ نہیں بلکہ جس امکان کو ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں اسی امکان کو مستقبل کے ایک واقعہ کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہے۔ مٹی بظاہر ایک مردہ اور جامد چیز ہے۔ پھر اس کے اوپر بارش ہوتی ہے۔ پانی پاتے ہی مٹی کے اندر سے ایک نئی سر سبز دنیا نکل آتی ہے۔ اس کے اندر سے طرح طرح کی فصلیں اور قسم قسم کے پھل دار درخت وجود میں آجاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی موجودہ دنیا کے بعد آنے والی دنیا کی ایک تمثیل ہے۔ مٹی پر پانی پڑنے سے زمین کے اوپر رنگ اور خوشبو اور ذائقہ کا ایک سر سبز و شاداب چمن کھل اٹھتا اس امکان کو بتاتا ہے جو دنیا کے خالق نے یہاں رکھ دیا ہے۔ آج کی دنیا میں انسان جو نیک عمل کرتا ہے وہ اسی قسم کا ایک امکان ہے۔ جب خدا کی رحمتوں کی بارش ہوگی تو یہ امکان ہرا بھرا ہو کر آخرت کی لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں تبدیل ہو جائے گا۔

انسان اولاً ماں کے بطن کے سپرد ہوتا ہے پھر موجودہ دنیا میں آتا ہے۔ قبر بھی گویا اسی قسم کا ایک "بطن" ہے۔ آدمی قبر کے سپرد کیا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ اگلی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تاکہ اپنے عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں داخل کر دیا جائے۔ انسان سے غیب کی جس دنیا کو ماننے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس کی جھلکیاں اور اس کے دلائل موجودہ محسوس کائنات میں پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مانتا وہی ہے جو پہلے سے ماننے کے لئے تیار ہو۔ "ایمان" کی راہ میں آدمی جب آدھا سفر طے کر چکا ہوتا ہے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایمان کی دعوت اس کے ذہن کا جز بنے اور وہ اس کو قبول کرلے۔ جو شخص ایمان کے الٹے رخ پر سفر کر رہا ہو اس کو ایمان کی دعوت کبھی نفع نہیں پہنچا سکتی۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page