Al-Risala · April 1981 · page 39

اصل عبادت اللہ کے آگے عاجزی کرنا ہے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳۹

اصل عبادت اللہ کے آگے عاجزی کرنا ہے

عبد اللہ بن جدعان زمانہ جاہلیت کے عربوں میں بڑا فیاض اور مہمان نواز آدمی تھا۔ وہ رشتہ میں حضرت عائشہ کا چچا زاد بھائی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل مر گیا۔ حضرت عائشہ نے ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے خدا کے رسول، عبداللہ بن جدعان لوگوں کی بہت خدمت کرتا تھا اور لوگوں کو کھانا کھلایا کرتا تھا۔ کیا قیامت کے دن ابن جدعان کا یہ عمل اس کو نفع دے گا۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ کیوں کہ اس نے کبھی یہ نہ کہا کہ رب اغفر لی خطیئتی یوم الدین (میرے رب، بدلہ کے دن میری خطاؤں کو معاف کر دے، مسلم) خدا کو بندے کی عاجزانہ پکار پسند ہے بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے اور وہ اس کو محبوب ہوتا ہے تو وہ فرماتا ہے: اے جبریل، میرے بندے کی حاجت پوری کرنے میں جلدی نہ کر۔ مجھے محبوب ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں (جاء فی الآثار ان العبد اذا دعا ربه يحبه قال: يا جبریل لا تعجل بقضاء حاجة عبدی فانی احب ان اسمع صوته ابن رجب حنبلی، جامع العلوم والحکم، مكتبة الرياض الحديثة، قاهره ۱۹۶۲، صفحه ۴۲۴)

محتاط زندگی کیسی ہوتی ہے

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: جس معاملہ میں ہدایت ظاہر ہو اس کی پیروی کرو۔ جس معاملہ کا نقصان ظاہر ہو اس سے بچو۔ جو معاملہ مشتبہ نظر آئے اس کو اللہ کے حوالے کر دو (امر استبان رشدہ فاتبعہ و امر استبان ضرہ فاجتنبه و امر اشکل امرہ علیک فردہ الی الله)

اچھائی کا ذکر کرنا اور برائی کو چھپانا

ابو ہرون کہتے ہیں کہ میں ابو حازم کے پاس گیا اور ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، دونوں آنکھوں کا شکر کیا ہے۔ انھوں نے کہا: جب تم اپنی آنکھوں سے اچھائی دیکھو تو اس کا تذکرہ کرو، اور جب تم اپنی آنکھوں سے برائی دیکھو تو اس کو چھپاؤ۔ پھر میں نے پوچھا کہ دونوں کانوں کا شکر کیا ہے۔ انھوں نے کہا:۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تم اپنے کانوں سے اچھائی سنو تو اس کو یاد کر لو اور جب تم اپنے کانوں سے برائی سنو تو اس کو بھلا دو (قال ابو ہرون، دخلت علی ابی حازم فقلت له: يرحمك الله ما شكر العينين۔ قال اذا رأيت بهما خيرا ذكرته واذا رأيت بهما شرا استرته۔ قلت فما شكر الاذنين۔ قال اذا سمعت بهما خيرا حفظته واذا سمعت بهما شرا انسيته)

تین باتیں جو ہر چیز کی جامع ہیں

عن ام انس رضی اللہ عنہا انها قالت یا رسول اللہ | ام انس رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ انھوں نے کہا: اے خدا أوصنی۔ قال: أهجرى المعاصى فانها افضل | کے رسول مجھے وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا: گناہوں کو الهجرة۔ وحافظي على الفرائض فانها | چھوڑ دو، یہ سب سے بڑی ہجرت ہے۔ فرائض کی نگہداشت

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page