Al-Risala · April 1981 · page 30

علم وہی ہے جو اللہ سے ڈر پیدا کرے

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۱، صفحہ ۳۰

افضل الجهاد و أكثرى من ذكر الله فانك لا کرو، یہ سب سے بڑا جہاد ہے۔ اللہ کو بہت زیادہ یاد تاتین الله بشئی احب اليه من كثرة ذكر الله کرو۔ کیونکہ تم اللہ کے پاس اس کی سب سے محبوب چیز (ترغیب و ترہیب بحواله طبرانی) جو لے جاسکتی ہو وہ اس کی یاد ہے۔

علم وہی ہے جو اللہ سے ڈر پیدا کرے

جبیر بن نفیر نے عوف بن مالک اشجعی کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ کے پاس آپ کے اصحاب بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف نظر کی اور فرمایا کہ وہ وقت آنے و ہے جب کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔ انصار میں سے ایک شخص نے کہا جس کا نام زیاد بن لبید تھا۔ اے خدا کے رسول کیا ہم سے علم اٹھا لیا جائے گا۔ حالاں ہمارے درمیان خدا کی کتاب ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تم کو مدینہ کا سب سے زیادہ سمجھ دار آدمی جانتا تھا۔ کیا تم یہود کی گمراہی کو نہیں دیکھتے۔ حالانکہ کہ ان کے درمیان خدا کی کتاب موجود ہے۔ اس کے بعد جبیر بن نفیر کی ملاقات شداد بن اوس سے ہوئی۔ انھوں نے ان کو یہ حدیث سنائی۔ شداد بن اوس نے کہا۔ جانتے ہو علم کا اٹھ جانا کیا ہے۔ انھوں نے کہا نہیں۔ شداد نے کہا، اس کے برتن کا چلا جانا۔ ر هاب او عيته) اس کے بعد شداد نے کہا :

هل تدرى اى العلم يرفع قال قلت لا ادرى قال کیا تم جانتے ہو کون سا علم اٹھا لیا جائے گا۔ انھوں نے الا الخشوع حتى لا يرى خاشعا، ابن عبد البر جامع بيان کہا نہیں۔ فرمایا: خشوع اٹھا لیا جائے گا۔ یہاں تک کہ تم العلم و فضله، جزراول ، صفحه ۱۵۳ کوئی خاشع نہ دیکھو گے۔

بے راہ ہو جانے کا خطرہ ہر ایک کے لئے ہے

عن ابی هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ امت ایک عرصہ تک وسلم تعمل هذه الامة برهة بكتاب الله، ثم کتاب اللہ پر عمل کرے گی۔ پھر ایک عرصہ تک اللہ کے تعمل برهة بسنة رسول الله ، ثم تعمل بعد رسول کی سنت پر عمل کرے گی۔ اس کے بعد وہ رائے ذلك بالراى، فاذا عملوا بالرای ضلوا (جامع بيان پر عمل کرے گی۔ اور جب وہ رائے پر عمل کرے گی تو وہ العلم وفضله، جز رثانی ، صفحه (۱۳) گمراہ ہو جائے گی۔

بزرگ پرستی دھیرے دھیرے بت پرستی بن جاتی ہے

سورہ نوح میں قدیم زمانہ کے کئی بتوں کا ذکر ہے ۔ ود، سواع، ، یغوث ، یعوق اور نسر۔ اس سلسلے میں مفسر ابن جریر طبری نے محمد بن قیس کے واسطہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ بتوں کے یہ نام دراصل ان قوموں کے بزرگوں کے نام پر ہیں۔ یہ اللہ کے نیک بندے تھے جو حضرت آدم علی اور حضرت نوح کے درمیانی زمانہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے بہت سے معتقدین تھے جو ان کی پیروی کرتے تھے ، جب ان صالحین کا انتقال ہو گیا تو ان کے معتقدین نے کہا: اگر ہم ان کی مورت بنالیں تو اس سے ہمارے شوق عبادت میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ انھوں نے ان صالحین

‹ Previous page Next page › Contents of April 1981 All issues

Printed page