They are just like Jesus and Moses
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۰
اور انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک قرار دیا۔ حالاں کہ اسی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور بے جانے بوجھے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراشیں۔ پاک اور برتر ہے وہ ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ یہ ہے اللہ تمھار ار ب۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔ اس کو نگاہیں نہیں پاتیں۔ مگر وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ۔ وہ بڑا باریک ہیں اور بڑا باخبر ہے۔ اب تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آچکی ہیں۔ پس جو بینائی سے کام لے گا وہ اپنے ہی لئے، اور جو اندھا بنے گا وہ خود نقصان اٹھائے گا۔ اور میں تمھارے اوپر کوئی نگراں نہیں ہوں ١٠٢ ۔ ١٠٠ قدیم ترین زمانہ سے انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ جس چیز میں بھی کوئی امتیاز یا کوئی پراسراریت دیکھتا ہے اس کو وہ خدا کا شریک سمجھ لیتا ہے۔ اور اس سے مدد لینے یا اس کی آفتوں سے بچنے کے لئے اس کو پوجنے لگتا ہے۔ اسی ذہن کے تحت بہت سے لوگوں نے فرشتے اور کواکب اور جنات کو پوجنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ ان چیزوں کے خدا نہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ ان کے اندر "خلق" کی صفت نہیں۔ انھوں نے نہ اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہیں۔ ان کو خود کسی دوسری ہستی نے تخلیق کیا ہے۔ پھر جو خالق ہے وہ خدا ہوگا یا جو مخلوق ہے وہ خدا بن جائے گا۔
ایک درخت کو کمال درجہ موزونیت کے ساتھ وہ تمام چیزیں پہنچتی ہیں جو اس کی بقا کے لئے ضروری ہیں۔ اسی طرح کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ جب یہ حقیقت ہے کہ ان چیزوں کو جو کچھ ملتا ہے کسی دینے والے کے دئے سے ملتا ہے تو یقیناً دینے والا ہر جزو و کل سے باخبر ہوگا۔ اگر وہ ان سے باخبر نہ ہو تو ہر چیز کی اس کی عین ضرورت کے مطابق کار سازی کس طرح کرے۔ اب جو خدا اتنی کامل صفات کا مالک ہو وہ آخر کس ضرورت کے لئے کسی کو اپنی خدائی میں شریک کرے گا۔
انسان خدا کو محسوس صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جب وہ اس کو محسوس صورت میں نظر نہیں آتا تو وہ دوسری محسوس چیزوں کو خدا فرض کر کے اپنی ظاہر پرستی کی تسکین کر لیتا ہے۔ مگر یہ خدا کی ہستی کا بہت کمتر اندازہ ہے آخر جو خدا ایسا عظیم ہو کہ اتنی بڑی کائنات پیدا کرے اور انتہائی نظم کے ساتھ اس کو مسلسل چلاتا رہے، وہ اتنا معمولی کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک کمزور مخلوق اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے چھوئے۔ البتہ انسان دل کی راہ سے خدا کو پاتا ہے اور یقین کی آنکھ سے اس کو دیکھتا ہے۔ جو شخص بصیرت کی آنکھ سے دیکھ کر ماننے پر راضی ہو وہی خدا کو پائے گا۔ جو بصارت سے دیکھنے پر اصرار کرے وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہے گا جس طرح وہ شخص پھول کی خوشبو کو جاننے سے محروم رہتا ہے جو اس کو کیمیائی معیاروں پر پرکھ کر جاننا چاہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues