Al-Risala · January 1981 · page 21

They are just like Jesus and Moses

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱

اور اس طرح ہم اپنی دلیلیں مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ کہیں کہ تم نے پڑھ دیا اور تاکہ ہم اچھی طرح کھول دیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔ تم بس اس چیز کی پیروی کرو جو تمھارے رب کی طرف سے تم پر وحی کی جای ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور ہم نے تم کو ان کے اوپر نگراں نہیں بنایا ہے اور نہ تم ان پر مختار ہو۔ اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر گروہ کی نظروں میں کے عمل کو خوش نما بنا دیا ہے۔ پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ۔ اس وقت اللہ انہیں بتادے گا جو وہ کرتے تھے ۱۰۸- ۱۰۵ ۔

ایک شخص وہ ہے جس کے اندر طلب کی نفسیات ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہتا ہو۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو دولت یا اقتدار کا کوئی حصہ پا کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ وہ پائے ہوئے لوگ ہیں۔ ان کے اندر کوئی کمی نہیں ہے جو کوئی شخص آکر پوری کرے۔ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو اس کو قبول کرنے والے زیادہ تر پہلی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جو دوسری قسم کے لوگ ہیں وہ اس کو کوئی قابلِ لحاظ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے۔ اس لئے اس کی اہمیت بھی ان پر واضح نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں حق کی دعوت کا مقصد دو ہوتا ہے۔ جو سچے طالب ہیں ان کی طلب کا جواب فراہم کرنا۔ اور جو لوگ طالب نہیں ہیں ان پر حجت قائم کرنا۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لئے دعوت کا منشا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے ماننے والے بن جائیں۔ اور دوسری قسم کے لوگوں کے لئے یہ کہ وہ کہہ اٹھیں کہ ’’تم نے بتا دیا، تم نے بات ہم تک پہنچا دی‘‘ جو لوگ دعوت کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کی باتیں نکالتے ہیں۔ ایسے موقع پر داعی کے دل میں یہ خیال آنے لگتا ہے کہ وہ دعوت کے انداز میں ایسی تبدیلی کردے جس سے وہ مدعو کے لئے قابلِ قبول بن جائے۔ مگر اس قسم کا انحراف درست نہیں۔ داعی کو ہمیشہ اسی اسلوب پر قائم رہ رہنا چاہئے جو براہ راست خدا کی طرف سے تلقین کیا گیا ہے۔ کیونکہ اصل مقصد انسان کو خدا سے جوڑنا ہے نہ کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو اپنے حلقہ میں شامل کرنا۔ دوسری طرف یہ بات بھی غلط ہے کہ مدعو کے رویہ سے مشتعل ہو کر ایسی باتیں کی جائیں کہ اس کی گمراہی جاہلانہ بد کلامی تک جاپہنچے۔

آدمی جن خاص روایات میں پیدا ہوتا ہے اور جن افکار سے وہ مانوس ہو جاتا ہے، ان کے حق میں اس کے اندر ایک طرح کی عصبیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے مطابق اس کا ایک فکری ڈھانچہ بن جاتا ہے جس کے تحت وہ سوچتا ہے۔ یہی فکری ڈھانچہ حق کو قبول کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک آدمی اس فکری ڈھانچہ کو نہ توڑے اس کے ذہن میں وہ دروازہ نہیں کھلتا جس کے ذریعہ حق کی آواز اس کے اندر داخل ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues

Printed page