Al-Risala · May 1981 · page 12

دلیل کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۲

دلیل کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے

قرآن کی دوسری سورہ میں ارشاد ہوا ہے کہ پتھروں میں بعض ایسے پتھر ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں (وَاِنَّ منها لما يهبط من خشية الله ، بقرہ ۷۴) اس آیت میں ہبوط سے مراد پہاڑ کے اوپر سے پتھر کا لڑھک کر گرنا (Landslide) ہے۔ پہاڑوں کے اوپر سے پتھروں کا گرنا در اصل ایک تمثیل ہے کہ انسان کو کس طرح خدا کے آگے گر پڑنا چاہیے۔ پتھر کا ہبوط انسان کے ہبوط کو ممثل کرتا ہے۔ اس صورت حال کی ایک مثال حضرت عمر فاروق کا واقعہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو صحابہ شدید طور پر متاثر ہوئے۔ حضرت عمر کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ آپ کی وفات ہو گئی ہے۔ وہ مسجد نبوی میں تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہنا شروع کیا کہ کچھ منافقین یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ خدا کی قسم رسول اللہ کی وفات نہیں ہوئی ہے۔ وہ اپنے رب کے پاس گئے ہیں جیسے حضرت موسیٰ اپنے رب کے پاس گئے تھے۔ وہ اپنی قوم سے چالیس دن تک غائب رہے یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے کہ موسیٰ کی وفات ہو گئی ۔ خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح واپس آئیں گے جس طرح حضرت موسیٰ واپس آئے۔ پھر آپ ان لوگوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ہے۔

اس کے بعد حضرت ابوبکر آئے اور کہا کہ اے عمر چپ رہو۔ مگر وہ چپ ہونے پر راضی نہ ہوئے۔ جب حضرت ابو بکر نے دیکھا کہ حضرت عمر چپ نہیں ہو رہے ہیں تو لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی۔ اس تقریر میں حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اے لوگو سنو، جو شخص محمد کی پوجا کرتا تھا تو محمد کا انتقال ہو گیا ۔ اور جو شخص اللہ کو پوجتا تھا تو اللہ زندہ ہے، اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر نے بلند آواز سے قرآن کی یہ آیت پڑھی: محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے۔ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا۔ اور اللہ شکر کرنے والوں کو ثواب دے گا (آل عمران ۱۴۴)

اس آیت کو سننے کے بعد حضرت عمر فاروق کا جو حال ہوا وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ تھا : فواللہ ما ہو الا ان سمعت ابا بکر تلاها خدا کی قسم جب ابو بکر نے یہ آیت پڑھی تو اس کو سن کر میں فعقرت حتی وقعت الى الارض ما تحملنی دہشت زدہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں زمین پر گر پڑا ، رجلاى وعرفت ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دونوں پاؤں میرا بوجھ نہ اٹھا سکے اور میں نے

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page