دلیل کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۳
قدمات (سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ صفحہ ۳۳۵) جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے خدا کی دلیل آتے ہی عمر فاروق کا گر پڑنا عین ویسا ہی تھا جیسے پتھر بلندی سے گر پڑتا ہے، پتھر کا ہبوط خشیت کی تمثیل ہے اور عمر فاروق کا ہبوط خشیت کی تعمیل ۔ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ جب اس کی کوئی بات سامنے آجائے تو آدمی ڈھٹائی نہ کرے بلکہ وہ خدا کے خوف سے اس کے آگے گر پڑے ، وہ گر پڑنے کی حد تک اس کو مان لے۔ اس گر پڑنے کو خدا نے ہبوط حجری کی صورت میں ممثل کردیا۔ اس نے پتھر کی صورت میں انسان کو دکھا دیا کہ جب کوئی خدائی معاملہ سامنے آ جائے تو کس طرح اختیار کے باوجود وہ بے اختیار مخلوق کی طرح خدا کے آگے ڈھہ پڑے۔ عمر فاروق کے سامنے جب اس قسم کا لمحہ آیا تو وہ اللہ کے حکم کے آگے بالکل بے اختیار ہو کر گر پڑے۔ ہبوط حجری اور ہبوط عمری دونوں ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ ایک جگہ یہ حقیقت بے اختیاری کے ساتھ ظاہر ہو رہی ہے اور دوسری جگہ اختیار اور آزادی کے ساتھ۔ عمر فاروق کا یہ عمل اتنا کامل تھا کہ وہ خدا کی مقرر کردہ تمثیلی میزان سے ناپنے میں عین اس کے مطابق اترتا ہے۔ حضرت عمر کے سامنے اس وقت جو چیز آئی وہ بس قرآن کی ایک آیت تھی۔ یعنی بولے ہوئے چند الفاظ۔ وہ اس مجموعہ الفاظ کو ماننے سے انکار کر سکتے تھے۔ اگر وہ اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کی خاطر اسے ٹھکرا دیتے تو قدیم عرب میں بہت سے لوگ آپ کا ساتھ دینے والے مل جاتے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے قول کی خوبصورت تاویل بھی کر سکتے تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ میں وفات رسول کا منکر نہ تھا۔ میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ خلافت کا مسئلہ حل ہو جانے تک آپ کی وفات کو راز میں رکھا جائے۔ خلافت کا مسئلہ حل ہو جانے کے بعد اس کا اعلان کیا جائے۔ مگر انہوں نے نہ تو اس کا انکار کیا اور نہ تاویل کے ذریعہ اپنی ساکھ کو بحال رکھنے کی کوشش کی۔ اس کے بجائے وہ دلیل کی صورت میں ظاہر ہونے والے خدا کے آگے اس طرح گر پڑے جیسے کہ خدا خود عیاناً ان کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا ہو۔ دنیا میں ہمیشہ دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو خدا کی عظمتوں میں جی رہے ہوں۔ دوسرے وہ جو کسی غیر خدائی عظمت میں سانس لیتے ہوں، خواہ یہ غیر خدا ان کی اپنی ذات ہو یا کوئی اور ۔ پہلی چیز کا نام توحید اور دوسری چیز کا نام شرک ہے۔ جنت صرف ان خوش قسمت افراد کے لئے ہے جو خدا کی بڑائی میں جیتے ہوں، جن کی روح نے خدا کی عظمت میں اپنی غذا پائی ہو۔ اس کے برعکس جو لوگ دوسری دوسری عظمتوں کو اپنی روح کی خوراک بنائے ہوئے ہوں وہی وہ لوگ ہیں جو جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ جنت خدا کا پڑوس ہے اور خدا کا پڑوس انھیں لوگوں کو مل سکتا ہے جو خدا میں جئے ہوں۔ جو لوگ دوسری دوسری چیزوں میں جئیں وہ خدا کے پڑوس میں کیونکر بسائے جاسکتے ہیں۔
خدا کے جتنے نبی آئے وہ سب عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ ان کے پاس جو مزید چیز تھی