Al-Risala · May 1981 · page 14

دلیل کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۴

وہ صرف بینہ (دلیل) تھی۔ اسی دلیل کے ماننے یا نہ ماننے پر قوموں کے لئے انعام یا سزا کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے دلیل دنیا کی زندگی کی خدا کا نمائندہ ہے۔ خدا کا پانے والا وہ ہے جو دلیل کے روپ میں خدا کو پالے۔ جو شخص دلیل کے روپ میں ظاہر ہونے والے خدا کو نہ پائے وہ خدا کے نزدیک اندھا ہے۔ اس کے لئے خدا کی رحمتوں میں دنیا میں کوئی حصہ نہیں۔

خدا کو دلیل کے روپ میں پانا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ حق کی وضاحت جب دلیل کی زبان میں ہو جائے تو اس کے وزن کو محسوس کرنے میں آدمی کے لئے کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ دلیل کا فیصلہ خواہ اپنی رائے کی موافقت میں جارہا ہو یا اس کے برعکس ہو۔ دلیل سے ثابت ہونے والی بات اپنی مصلحتوں کے مطابق ہو یا اس کے خلاف ہو۔ دلیل سے جو بات نکل رہی ہو اس میں اپنے فائدے باقی رہتے ہوں یا مجروح ہوتے ہوں، ہر حال میں آدمی دلیل کے وزن کو پوری طرح محسوس کرے۔ کوئی بھی نفسیاتی پیچیدگی یا دنیوی مفاد اس کے اوپر ایسا غالب نہ آئے کہ وہ دلیل کو دلیل کی صورت میں نہ دیکھ سکے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دلیل کے وزن کو محسوس نہیں کر پاتا تو اس کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کے سوا کہیں اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ اگر وہ ہر قسم کی غیر خدائی عظمتوں سے بلند ہو تو دلیل کے وزن کو پانا اس کے لئے کبھی مشکل نہ ہوگا۔ موجودہ دنیا میں خدا اور دلیل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور آخرت میں خدا خود اپنی ذات کمال کے ساتھ عیانًا لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔ قیامت میں ہر آدمی خدا کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ مگر مومن اور موحد وہ ہے جو دلیل کی صورت میں ظاہر ہونے والے خدا کے سامنے آج اسی طرح ڈھ پڑے۔ جس طرح غیر مومن اور غیر موحد کل قیامت کے دن خدا کے سامنے ڈھ پڑے گا جب کہ وہ فرشتوں کے جلو میں عیانًا انسان کے سامنے ظاہر ہو جائے گا۔

خدا کی بات کے سامنے جھک جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی خدا کے معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔ ایک بچہ انگارہ کو ہاتھ میں اٹھا سکتا ہے۔ مگر ایک با ہوش آدمی کبھی آگ کے انگارہ کو ہاتھ میں نہ لے گا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ انگارہ کے مقابلہ میں اس کا ہاتھ کمزور ہے۔ اس کا یہ یقین اس کو انگارہ کے بارے میں آخری حد تک سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ انگارہ کے معاملہ کو وہ کبھی غیر سنجیدہ انداز میں نہیں لیتا۔ اسی طرح جس شخص کو خدا کی معرفت حاصل ہو کہ جو خدا کے عظمت و کمال کو پاگیا ہو وہ خدا کا معاملہ آتے ہی فوراً سنجیدہ ہو جائے گا۔ خدا کی طاقت انگارہ کی طاقت سے بے حساب گنا زیادہ ہے۔ پھر انگارہ کا علم جب آدمی کو پوری طرح سنجیدہ بنا دیتا ہے تو خدا کا علم اس کو کیوں سنجیدہ نہیں بنائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی بات آجانے کے باوجود جو شخص سنجیدہ نہ ہو وہ صرف اس کا ثبوت دے رہا ہے کہ خدا کے زبانی اقرار کے باوجود اس کو خدا پر یقین نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page