دلیل کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۵
نظر انداز کرو ”میں تمھاری صورت دیکھنا نہیں چاہتا‘‘، کہنئے والے نے کہا ”اپنی آنکھیں بند کر لو، میری صورت تمھیں دکھائی نہیں دے گی‘‘ ”میں تمھاری آواز سننا نہیں چاہتا‘‘ کہنے والے نے دوبارہ کہا ”اپنے کان بند کر لو، میری آواز تمھیں سنائی نہیں دے گی‘‘ راما ئن کے دو کرداروں کا یہ سادہ مکالمہ زندگی کی بہت بڑی حقیقت بیان کر رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ جس مسئلہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے آدمی دوسروں کے پیچھے دوڑتا ہے، اس کو وہ اپنے آپ پر عمل کر کے زیادہ بہتر طور پر حل کر سکتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب آدمی کو کسی دوسرے شخص سے کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو وہ فوراً اس شخص کے خلاف کارروائی شروع کر دیتا ہے اور پھر جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ کہ نہ صرف پہلا مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے بلکہ بے شمار نے نئے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہر مسئلہ کا زیادہ آسان اور یقینی حل یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اس سے ہٹائے، اس سے الجھ کر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے آپ کو زیادہ مفید کاموں میں مصروف رکھے۔ کسی مفکر نے بالکل صحیح کہا ہے کہ ”دوسروں کے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنے پیچھے پڑو، کیونکہ اپنے آپ کو پکڑ کر تم زیادہ بہتر طور پر دوسرے کو پکڑ سکتے ہو‘‘، اکثر لوگ زندگی کے اس راز کو نہیں جانتے۔ وہ اپنی طاقت اور اپنے وقت کا بڑا حصہ اپنے مفروضہ مخالفین کو سبق سکھانے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اگر وہ اس طاقت اور وقت کو اپنی تعمیر میں لگائیں تو اپنے کو مضبوط اور کامیاب بنا کر وہ زیادہ کامیابی کے ساتھ اپنے مخالفین کو سبق دے سکتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دوسرے شخص کی برائی کو نظر انداز کرنا ہمیشہ اس سے مقابلہ کرنے کا زیادہ کامیاب طریقہ ہوتا ہے ۔ آپ کی بڑھی ہوئی طاقت آپ کے مخالف کو مرعوب کر کے بھادیتی ہے۔ وہ آپ کے خلاف مزید کارروائی کرنے کا حوصلہ کھو دیتا ہے۔ اس کے برعکس جب آپ برائی کرنے والے سے اپنے کو الجھا دیں تو یہ ہمیشہ تھوڑے نقصان کو بچانے کی خاطر بڑے نقصان کو برداشت کرنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اس طرح آپ اپنے وقت اور قوت کو بھی ضائع کرتے ہیں اور دوسرے کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر چھپی ہوئی مزید برائیوں کے ساتھ آپ کے اوپر پل پڑے۔ سماج کی ملی جلی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ہم کو کسی کی بات سے تکلیف پہنچتی ہے۔ کسی کا کوئی کام ہمارے لئے پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر تکلیف ہونا فطری ہے۔ مگر ایسے مواقع پر سہارے کام لینے ہی میں ہر قسم کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اگر ہم برداشت نہ کریں اور پھر کر دوسرے سے لڑنے لگیں تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے بھرنے سے دوسرا شخص بھی پھرتا ہے اور بات بڑھتی چلی جاتی ہے۔ دوسرے کو برباد کرنے کی کوشش میں ہم خود اپنے آپ کو برباد کر لیتے ہیں۔
ایک شخص ایک مکان کی اوپر کی منزل پر رہتا تھا۔ نیچے خالی جگہ تھی جہاں لڑکے کبھی کبھی آ کر کھیلتے اور شور