دلیل کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا ہے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۶
مچاتے اوپر والے کو لڑکوں کا شور پسند نہ تھا۔ اس نے منع کیا مگر لڑکے نہ مانے آخر ایک دن غصہ میں آکر اس نے کیا کہ لڑکوں کے اوپر چھت سے گندا پانی گرا دیا۔ لڑکے اس میں بھیگ گئے۔ اب لڑکوں کے غصہ کی باری تھی۔ انہوں نے آپے سے باہر ہو کر چھت کی طرف اینٹ کے ٹکڑے پھینکنے شروع کئے جو نیچے پڑے ہوئے تھے۔ ایک ٹکڑا آکر واش بیسن پر گرا جو اوپر والے کے مکان میں باہر کی جانب لگا ہوا تھا۔ چینی کا واش بیسن فوراً ٹوٹ گیا۔ لڑکے تو چند منٹ کے بعد بھاگ گئے مگر اس کا ٹوٹا ہوا قیمتی واش بیسن اس واقعہ کی افسوس ناک یادگار بن کر باقی رہ گیا۔ آدمی نے لڑکوں کے شور کی طرف سے اپنے کان بند کر لئے ہوتے تو وہ شور سے بھی بچ جاتا اور واش بیسن کے نقصان سے بھی۔ کھونا بھی پا نا ہے ”حادثات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں“ کسی مفکر کا یہی قول لوئی بریل (۱۸۵۲۔ ۱۸۰۹) کی زندگی پر پوری طرح صادق آتا ہیں۔ لوئی بریل ایک بڑھئی کا لڑکا تھا۔ ابھی وہ تین سال کا تھا کہ باپ کی دکان میں ایک حادثہ ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں جاتی رہیں۔ وہ ہمیشہ کے لئے اندھا ہو گیا۔ یہ فرانسیسی اندھا ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار اندھوں کے لئے پڑھنے لکھنے کا وہ علامتی طریقہ ایجاد کیا جس کو اسی کے نام پر بریل کا طریقہ (Braille System) کہا جاتا ہے۔ لوئی بریل کے لئے بظاہر دنیا تاریک ہو چکی تھی۔ مگر اس کے شوق اور محنت نے تاریکی میں بھی ایک نئی روشنی کا راز دریافت کر لیا۔
اسی قسم کا واقعہ ہیلن کیلر (۱۹۶۸۔ ۱۸۸۹) کا ہے۔ یہ امریکی خاتون ابھی صرف ڈیڑھ سال کی تھی کہ ایک مہلک بخار میں وہ اندھی اور بہری ہو گئی۔ چونکہ وہ نہ دیکھ سکتی اور نہ سن سکتی تھی اس لئے وہ بولنا بھی نہ سیکھ سکی۔ آنکھ اور کان دونوں سے محرومی نے اس کو بالکل بے بسی کی حالت میں ڈال دیا تھا۔ بظاہر اب ہیلن کیلر کے لئے ایک ہی انجام مقدر تھا۔ وہ کسی معذور خانہ میں کس مپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے مرجائے۔ ہیلن کیلر نے آنکھ اور کان کھوئے تھے مگر اس نے ہمت نہیں کھوئی تھی۔ اس نے طے کیا کہ وہ آنکھ نہ ہوتے ہوئے دیکھے گی اور کان نہ ہوتے ہوئے سنے گی۔ وہ ان خوش قسمت لوگوں کی مانند بنے گی جن کو قدرت کی طرف سے آنکھ اور کان حاصل ہوتے ہیں۔
جب آدمی عزم کرلے تو راہیں بھی کھلنے لگتی ہے۔ ہیلن کیلر کو اپنی مدد کے لئے ایک لائق ٹیچر مس سولیون مل گئی۔ ہیلن کیلر نے انگلی سے چھو کر پڑھنے والے حروف سیکھے۔ یہاں تک کہ اس کو پڑھنا آ گیا۔ بہری ہونے کے باوجود اس نے اپنی محنت سے بولنا سیکھ لیا۔ اس نے یہ کیا کہ اس کی استانی جب بولتی تو وہ اس کے حلق پر اور اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر حلق اور ہونٹ پر الفاظ کی حرکاتی شکل کو محسوس کرتی اور ان حرکتوں کو انگلی سے سمجھ کر اپنی زبان سے ان کی نقل کرتی۔ اس انوکھے قسم کی تعلیمی کوشش میں برسہا برس لگ گئے۔ مگر بالآخر اس کی کوشش کامیاب ہوئی۔ اس نے انگلیوں کی مدد سے الفاظ کی حرکتوں کو پہچانا اور ان کو اسی طرح دہرا کر بولنا سیکھ لیا۔ اب وہ باقاعدہ پڑھنے اور بولنے لگی۔ اس نے اپنی تعلیم میں اپنی انگلیوں کو آنکھ اور کان کا بدل بنالیا۔ انگلیوں کی مدد سے اس نے پڑھنا سیکھا اور انگلیوں ہی کی مدد سے بولنا بھی۔