Al-Risala · May 1981 · page 17

ذمہ داری اپنی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۷

مس سولیون سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہیلن کیلر نے پرکن کے اندھوں کے کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے ۱۹۰۴ میں گریجویٹ ہو کر نکلی۔ اب اس نے لکھنا بھی سیکھ لیا۔ اس نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ دیکھنے اور سننے کی فطری استعداد سے محرومی کے باوجود اس نے تین زبانیں سیکھ لیں۔ انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی۔ اس نے دنیا بھر کا سفر کر کے اندھوں کی تعلیم پر لیکچر دئے۔ اس کو ہارورڈ، گلاسگو، برلن اور دہلی کی یونیورسٹیوں نے اعزازی ڈگریاں دیں۔ اس کے علاوہ اس کو اور بہت سے عالمی اعزازات ملے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی بڑا کارنامہ اکثر وہی لوگ انجام دیتے ہیں جو کسی بڑے حادثہ سے دو چار ہوتے ہوں۔ کسی کے ساتھ جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو وہ اس کے اندر کی کے احساس کو بے پناہ حد تک جگا دیتا ہے۔ وہ اس چیز کو پانے کے لئے دوسروں سے زیادہ بے تاب ہو جاتا ہے جس کو وہ کسی وجہ سے دوسروں سے بہت کم پائے ہوئے ہے۔ اس کی یہ بیتابی اس کے اندر سوئی ہوئی بہت سی نئی صلاحیتوں کو ابھار دیتی ہے۔ دوسرے لوگ جس چیز کو صرف جزئی محنت سے لینا چاہتے ہیں اس کو وہ اپنی ساری شخصیت لگا کر حاصل کرنے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے۔ اس کی یہ تڑپ اس کے اندر ایک نیا انسان جگادیتی ہے۔ "آنکھ سے محروم ہونے والا اپنے" ہاتھ "سے پڑھنے کا راستہ نکال لیتا ہے۔ پیروں کو کھونے والا اپنی عقل کے ذریعہ اپنے سفر کی تدبیر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے گھاٹا اٹھانے والا دوسرے اعتبار سے نفع حاصل کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔

حادثات بظاہر امکانات کا خاتمہ ہیں۔ مگر وہ ایک نئے آغاز کا سبب بن سکتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندر نیا ارادہ ابھارتے ہیں۔ اس کی چھپی ہوئی قوتوں کو بر روئے کار لاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ "پائے ہوئے " آدمیوں کے مقابلہ میں " کھوئے ہوئے " آدمیوں نے زیادہ بڑے کارنامے انجام دئے ہیں۔

ذمہ داری اپنی

ایک مفکر نے ایک مرتبہ بہت عمدہ بات کہی۔ اس نے کہا، " آدمی ہر آن اپنے آپ کو ریڈیّٹ (Radiate) کرتا رہتا ہے " مطلب یہ ہے کہ آدمی جو عمل کرتا ہے اس کے ذریعہ سے وہ ماحول کے اندر اپنا تعارف پھیلاتا رہتا ہے۔ جس طرح ریڈیم کا ایک ٹکڑا اپنے گرد و پیش اپنی شعاعیں بکھیرتا ہے اسی طرح انسان اپنے ہر رویہ سے دوسروں کو بتاتا رہتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔

ایک دکان دار کا قصہ ہے ۔ اس نے اپنے یہاں حساب لکھنے کے لئے ایک منیب رکھا۔ پہلے دن کام کرنے کے بعد منیب نے دکان دار کے یہاں غسل کیا اور اس کے بعد نل کو بند نہیں کیا، اس کو کھلا چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا۔ اگلے دن منیب آیا تو دکان دار نے اس کو مہینہ بھر کی پوری تنخواہ پیشگی دیتے ہوئے کہا " اب آپ کل سے میرے یہاں آنے کی زحمت نہ کیجئے گا "

" کیوں " منیب نے حیرت کے ساتھ پوچھا " ابھی تو آپ نے صرف نل کو کھلا چھوڑا ہے "، دکان دار نے کہا " اسی طرح اگر کسی دن آپ نے میرے کاروبار میں کوئی دراز کھلا چھوڑ دیا تو میری ساری دولت اس کے راستہ بہہ |

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page