Al-Risala · May 1981 · page 18

ذمہ داری اپنی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۸

جائے گی اور میں دیوالیہ ہو کر رہ جاؤں گا"، ممکن ہے کہ دکان دار کے یہاں سے رخصت ہوتے ہوئے منیب نے اس کو دل ہی دل میں برا بھلا کہا ہو۔ اس کی نظر میں دکان دار بہت غلط آدمی ہو جس نے ذرا سی بات کو اتنا بڑھایا کہ اس کی ملازمت ختم کر دی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس واقعہ میں اصل غلطی منیب کی ہے نہ کہ دکان دار کی ۔ منیب کی لیاقت کو کوئی دکان دار صرف بہی کھاتہ کے صفحات میں نہیں دیکھے گا بلکہ اس کے ہر چھوٹے بڑے عمل کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کرے گا۔

اگر ماحول آپ کے ساتھ غلط رویہ اختیار کرے تو ہرگز ماحول کی شکایت نہ کیجیے کیونکہ ماحول تو صرف آپ کے عمل کا ردعمل پیش کرتا ہے۔ ماحول آپ کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے وہ خود آپ کے اس تعارف کا نتیجہ ہے۔ جو آپ نے ماحول کے اندر کرایا تھا مگر آپ ماحول کے اندر اپنا اچھا تعارف کرائیں تو ناممکن ہے کہ ماحول آپ سے اچھا سلوک نہ کرے۔ اگر ماحول کا سلوک آپ کی امیدوں کے خلاف ہو تو صرف اپنے کو قصور وار ٹھہرائیے کیونکہ ماحول آپ کے ساتھ اس کے سوا اور کچھ نہیں کرتا کہ وہ خود آپ کے عمل کے مئی کو آپ کی طرف لوٹاتا ہے۔ جو آپ نے ماحول کو دیا ہے وہی وہ آپ کو دے دیتا ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

جس طرح بے شمار چھوٹے چھوٹے نقطے اور لکیریں مل کر ایک تصویر بناتے ہیں، اسی طرح آپ کا ہر لمحہ کا عمل دیکھنے والوں کے ذہن میں آپ کا نقش ترتیب دیتا رہتا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ماحول کی نظر میں آپ کی ایک تصویر نہ بنے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آپ کے ساتھ ماحول کا معاملہ اس کے سوا کسی بنیاد پر ہو جو آپ نے اپنے روزانہ کے عمل سے اسے دیا ہے۔ آدمی ہر وقت اپنی ایک تاریخ بنارہا ہے۔ کسی کی تاریخ اچھی ہے اور کسی کی بری۔ کسی کی تاریخ کتابوں میں لکھی جاتی ہے اور کسی کی صرف مقامی داستان ہو کر رہ جاتی ہے۔ ہر آدمی اپنے صفحہ میں ٹھیک ویسا ہی جانا جاتا ہے جیسا کہ اس نے اپنی تاریخ کے مطابق اپنے آپ کو بنایا ہے۔

آدمی ہر آن اپنے آپ کو ریڈیٹ کرتا رہتا ہے ۔ اس قول کو یاد رکھئے، ، اور پھر آپ کو بھی کسی سے شکایت نہ ہوگی، کیونکہ آپ خود بھی کسی کو شکایت کا موقع نہ دیں گے۔ اور اگر کسی کو شکایت کا موقع دیں گے تو پہلے سے اس کے لئے تیار رہیں گے کہ اس کی طرف سے آپ کو قابل شکایت بات برداشت کرنا ہے۔

آئینہ وہی دکھاتا ہے جو آپ فی الواقع ہیں۔ آئینہ میں کسی کے چہرہ پر دھبہ دکھائی دے تو وہ آئینہ سے نہیں لڑتا بلکہ خود اپنے دھبہ کو صاف کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دھبہ چہرہ پر ہے نہ کہ آئینہ پر۔ اسی طرح ماحول سے اگر آپ کو کوئی شکایت پیدا ہو تو ماحول پر غصہ نہ کیجیے۔ ماحول تو عین وہی چیز پیش کر رہا ہے جو آپ نے اپنے بارے میں ماحول کو بتایا ہے۔ ایسے ہر موقع پر اپنے آپ پر نظرثانی کیجیے۔ آپ دیکھیں گے کہ اپنے آپ کو درست کرتے ہی ماحول کے آئینہ میں بھی آپ کی تصویر درست ہو گئی ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page