They are just like Jesus and Moses
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲
اور یہ لوگ اللہ کی قسم بڑے زور سے کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آجائے تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں۔ اور تمھیں کیا خبر کہ اگر نشانیاں آجائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس کے اوپر پہلی بار ایمان نہیں لائے ۔ اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیں گے۔ اور اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ساری چیزیں ان کے سامنے اکٹھا کر دیتے تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہ تھے الا یہ کہ اللہ چاہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں ۱۱۱ - ۱۰۹ حق ایک شخص کے سامنے دلائل کے ساتھ آتا ہے اور وہ اس کا انکار کر دیتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ ایک ہوتی ہے۔ بات کو اس کے صحیح رخ سے دیکھنے کے بجائے الٹے رخ سے دیکھنا۔ کوئی بات خواہ کتنی ہی مدلل ہو ، آدمی اگر اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ اس کو رد کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ الفاظ پالے گا۔ مثلاً داعی کے دلائل کو دلائل کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے وہ یہ بحث چھیڑ دے گا کہ تمھارے سوا جو دوسرے بزرگ ہیں کیا وہ سب حق سے محروم تھے۔ اور اسی طرح دوسری باتیں ۔
جس آدمی کے اندر اس قسم کا مزاج ہو اس کا راہ راست پر آنا انتہائی مشکل ہے۔ وہ ہر بات کو غلط رخ دے کر اس کے انکار کا ایک بہانہ تلاش کر سکتا ہے۔ نظری دلائل کو رد کرنے کے لئے اگر اس کو یہ الفاظ مل رہے تھے کہ یہ اسلاف کے مسلک کے خلاف ہے تو حسی مشاہدہ کو رد کرنے کے لئے وہ یہ الفاظ پا لے گا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے، اس کی حقیقت ایک فرضی طلسم کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو مزاج نظری دلیل کو ماننے میں رکاوٹ بنا تھا وہی مزاج حسی دلیل کو ماننے میں بھی رکاوٹ بن جائے گا۔ آدمی اب بھی اسی طرح محروم رہے گا جیسے وہ پہلے محروم تھا۔
اس قسم کے لوگ اپنی نفسیات کے اعتبار سے سرکش واقع ہوتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنے کو اونچا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک داعی جب ان کے سامنے حق کا پیغام لے آتا ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ماحول میں اجنبی ہوتا ہے‘ وہ وقت کی عظمتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنے کو منسوب کرنا اپنی حیثیت کو نیچے گرانے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس لئے برتری کی نفسیات رکھنے والے لوگ اس کو قبول نہیں کر پاتے۔ وہ طرح طرح کی توجیہات پیش کرکے اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔
دانائی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کو مانے اور اس کے مطابق اپنے ذہن کو چلانے کے لئے تیار ہو۔ اس کے برعکس نادانی یہ ہے کہ آدمی خدا کے نقشہ کے بجائے خود ساختہ معیار قائم کرے اور کہے کہ جو چیز مجھ کو اس معیار پر ملے گی میں اس کو مانوں گا اور جو چیز اس معیار پر نہیں ملے گی اس کو نہیں مانوں گا۔ ایسے آدمی کے لئے اس دنیا میں صرف بھٹکنا ہے۔ خدا کی اس دنیا میں آدمی خدا کے مقرر کئے ہوئے طریقوں کی پیروی کر کے منزل تک پہنچ سکتا ہے نہ کہ اس کے مقررہ طریقہ کو چھوڑ کر۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1981 All issues