ذمہ داری اپنی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹
اے بنی آدم ، ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمھارے بدن کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور زینت بھی۔ اور تقویٰ کا لباس اس سے بھی بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ لوگ غور کریں۔ اے آدم کی اولاد ، شیطان تم کو بہکا نہ دے جس طرح اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکلوا دیا ، اس نے ان کے لباس اتروائے تاکہ ان کو ان کے سامنے بے پردہ کر دے۔ وہ اور اس کے ساتھی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۲۶ - ۲۷ ۔
دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ ظاہری چیزوں پر غور کر کے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔ خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے حسن و وقار کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ اس بات کا اشاوہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لئے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے ، یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے۔ جو ایک طرف اس کو شیطان کے حملوں سے بچاتا ہے اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف ونفیس دنیا میں بسنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے ۔ اللہ کا خوف ، حق کا اعتراف ، اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ایک معیار رکھنا ، اپنے کو بندہ سمجھنا ، تواضع کو اپنا شعار بنانا ، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپناتے تو وہ اپنے اندرونی وجود کو ملبوس کرتا ہے اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کر لیتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا پہننا لباس ڈھانکتا ہے اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس ۔
آدمی کو گمراہ کرنے کے لئے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سر چشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتا ہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے اور انھیں نازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریہ کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے۔ کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتا ہے۔ کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے۔ کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتا ہے ۔ شیطان کن لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ رہ ان لوگوں پر کامیاب ہوتا ہے جو امتحان کے مواقع پر ایمان کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے۔ جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ جنھیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلہ میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ جنھیں وہ حق پسند نہیں آتا جو ان کی ذات کو نیچا کرے خود ان کے مقابلہ میں اونچا ہونا چاہتا ہو۔