Al-Risala · May 1981 · page 20

ذمہ داری اپنی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۰

اور جب کوئی فحش (کھلی برائی) کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے ہوئے پایا ہے اور خدا نے ہم کو اُسی کا حکم دیا ہے۔ کہو، اللہ کبھی برے کام کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم اللہ کے ذمہ وہ بات لگاتے ہو جس کا تمہیں کوئی علم نہیں۔ کہو کہ میرے رب نے قسط کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھو۔ اور اُسی کو پکارو اسی کے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ جس طرح اس نے تم کو پہلے پیدا کیا اسی طرح تم دوسری بار بھی پیدا ہوگے۔ ایک گروہ کو اس نے راہ دکھادی اور ایک گروہ وہ ہے کہ اس پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو اپنا رفیق بنایا اور گمان یہ رکھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔ ۲۹ - ۲۸ قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہئے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کر لیتا ہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کر سکتا۔ معمولی معمولی ناقابل فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا ان سے یہ امید کر لیتا ہے کہ وہ آخرت میں اس کے لئے عالی شان محل تعمیر کر دیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جس سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کر لیتا ہے کہ وہ آخرت میں اس کے لئے جنت کے باغ اگارہے ہیں۔

قسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہئے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتا ہے۔ اس معاملہ میں قسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتا ہے کہ وہ اس کے لئے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیونکہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس لئے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے حق کے داعی کا انکار کرنے کے لئے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتا ہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طور پر قائم ہو چکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا بر سر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعی حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کو آدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعی حق کا انکار کرتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے لئے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے نہ کہ حقیقہ خدا کی پیروی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page