ذمہ داری اپنی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۱
تذکیر القرآن الاعراف ۷ اے اولاد آدم! ہر نماز کے وقت اپنا لباس پہنو اور کھاؤ پیو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ کہو اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالا تھا اور کھانے کی پاک چیزوں کو۔ کہو وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لئے ہیں اور آخرت میں تو وہ خاص انہیں کے لئے ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو جاننا چاہیں۔ کہو میرے رب نے تو بس فحش باتوں کو حرام ٹھہرایا ہے وہ کھلی ہوں یا چھپی۔ اور گناہ کو اور ناحق کی زیادتی کو اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاؤ جس کا تم علم نہیں رکھتے ۳۳۔ ۳۱ عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے کہ جب وہ حج کے لئے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیزگاری کا کوئی بڑا عمل کر رہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کر کے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کر رہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائیگی کی حد تک قائم ہیں۔ انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے لئے حلال نہ سمجھے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بنی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر کے وہ حق کو اختیار کر لے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ بر تر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کر دے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئی روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے لئے درست نہ ہو۔ آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس لئے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے لئے ہوں گی جن کے لئے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے لئے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس لئے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچہ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حد و د کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔