Al-Risala · May 1981 · page 22

ذمہ داری اپنی

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۲

تذکیر القرآن الاعراف ۷ اور ہر قوم کے لئے ایک مقررہ مدت ہے۔ پھر جب ان کی مدت آجائے گی تو وہ نہ ایک ساعت پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔ اے بنی آدم، اگر تمہارے پاس تمھیں میں سے رسول آئیں جو تم کو میری آیات سنائیں تو جو شخص ڈرا اور جس نے اصلاح کر لی ان کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جو لوگ میری آیات کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے' ان کے نصیب کا جو حصہ لکھا ہوا ہے وہ انھیں مل رہا رہے گا یہاں تک کہ جب ہمارے بھیجے ہوئے ان کی جان لینے کے لئے ان کے پاس پہنچیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے کہاں ہیں۔ وہ کہیں گے کہ وہ سب ہم سے کھوئے گئے۔ اور وہ اپنے اوپر اقرار کریں گے کہ بے شک وہ انکار کرنے والے تھے ۳۴-۳۷ موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہو جائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔ اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کر دیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت و بڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔

کسی آدمی کے لئے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہو تو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہو گئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ یقیناً کبر کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے لئے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا بنانے پر راضی کر لے۔ ایسے آدمی کے لئے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی انجام نہیں۔

آدمی جب بھی حق کا انکار کرتا ہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتا ہے کسی کو دولت و اقتدار کا اعتماد ہوتا ہے۔ کوئی اپنی عزت و مقبولیت پر بھروسہ کئے ہوئے ہوتا ہے کسی کو یہ اعتماد ہوتا ہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے لئے شاندار الفاظ دریافت کر لئے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہے۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگر چہ اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے لئے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page