ذمہ داری اپنی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۳
فدا کہے گا، داخل ہو جاؤ آگ میں جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ جب بھی کوئی گروہ جہنم میں داخل ہوگا وہ اپنے ساتھی گروہ پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس میں جمع ہو جائیں گے تو ان کے پچھلے اپنے اگلوں کے بارے میں کہیں گے، اے ہمارے رب، یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا پس تو ان کو آگ کا دہرا عذاب دے۔ خدا کہے گا کہ سب کے لئے دہر ا ہے مگر تم نہیں جانتے۔ اور ان کے اگلے اپنےپچھلوں سے کہیں گے، تم کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ پس اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزہ چکھو ۳۹ - ۳۸ اس آیت میں "امت" سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور "اُخت" سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں۔ آخرت میں جب ہر دور کے بے راہ قائدین اور ان کا ساتھ دینے والے بے راہ عوام جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ ایک بڑا عبرت ناک منظر ہوگا۔ دنیا میں تو وہ ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ اور خدا کار بنے ہوئے تھے۔ قائدین اپنے عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے اور عوام اپنے قائدین کو ہیرو بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب جہنم کی آگ انہیں پکڑے گی تو ان کی آنکھوں سے تمام مصنوعی پر دے ہٹ جائیں گے۔ اب ہر ایک دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے لگے گا۔ پیروی کرنے والے اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم پر لعنت ہو۔ تمھاری قیادت کیسی بری قیادت تھی جس نے چند دن کے جھوٹے تماشے دکھائے اور اس کے بعد ہم کو اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں قائدین اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم اپنی پسند کا ایک دین چاہتے تھے اور ایسادین ہمارے پاس دیکھ کر ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔ ورنہ عین اسی زمانہ میں ایسے بھی خدا کے بندے تھے جو تم کو کامیابی کے سچے راستہ کی طرف بلاتے تھے۔ تم نے ان کی پکار سنی مگر تم نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔
رہنما اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم کسی اعتبار سے ہم سے بہتر نہیں ہو۔ ہم نے اپنی خواہشوں کی خاطر قیادتیں کھڑی کیں اور تم نے بھی اپنی خواہشوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا درجہ ایک ہے۔ اس لئے یہاں تم کو بھی وہی سزا بھگتنی ہے جو ہمارے لئے ہمارے اعمال کے سبب سے مقدر کی گئی ہے۔ پیروؤں کی جماعت اپنے رہنماؤں کے بارے میں خدا سے کہے گی کہ انھوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اس لئے ان کو ہمارے مقابلہ میں دگنا عذاب دیا جائے۔ جواب ملے گا کہ تمھارے رہنماؤں میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب مل رہا ہے مگر تم کو اس کا احساس نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم میں جس کو جو عذاب ملے گا وہ اُس کو اتنا زیادہ سخت معلوم ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہر شخص جس تکلیف میں ہوگا وہی تکلیف اس کو سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔
دنیا میں مفاد پرست رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس دوسرے کے لئے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلنا چاہے گا۔