ذمہ داری اپنی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۴
بے شک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکےے میں نہ گھس جائے۔ اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ ان کے لئے دوزخ کا بچھونا ہوگا اور ان کے اوپر اسی کا اوڑھنا ہوگا۔ اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کئے۔ ہم کسی شخص پر اس کی طاقت کے موافق ہی بوجھ ڈالتے ہیں۔ یہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور ان کے سینہ کی ہر خلش کو ہم نکال دیں گے ۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ کہیں گے کہ ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچایا اور ہم راہ پانے والے نہ تھے اگر اللہ ہم کو ہدایت نہ کر دیتا۔ ہمارے رب کے رسول سچی بات لے کر آئے تھے۔ اور آداز آئے گی کہ یہ جنت ہے جس کے تم وارث ٹھہرائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے ۳۴۔ ۴۰ خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔ داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناک میں داخل ہونا ۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس لئے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کر دیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعہ ان کو اپنی جھلکیاں دکھائیں۔ خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا۔ مگر انھوں نے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدا کی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پا سکتے ہیں۔ دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں باہم متنفر ہو جائیں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کر رہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں رب کے دل ایک دوسرے کے لئے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے لئے محبت اور خیر خواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے لئے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے لئے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔
برے لوگوں کے لئے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لئے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طور پر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خیر کو عین سچا پا کر خوش ہو رہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیانِ حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔