ذمہ داری اپنی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۵
اور جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے کہ ہم نے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو سچا پایا، کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدہ کو سچا پایا۔ وہ کہیں گے۔ پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پر۔ جو اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور اس میں کجی ڈھونڈتے تھے اور وہ آخرت کے منکر تھے ۴۴۔ ۴۵۔ ان آیات میں قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جنت اور جہنم تو ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور واقع ہوں گی، جنت آسمانوں کے اوپر ہوگی اور دوزخ سب سے نیچے تحت الثریٰ میں۔ پھر جنت والوں کی آواز جہنم والوں تک کس طرح پہنچے گی ۔ مگر اب ریڈیو اور ٹیلی وژن کے دور میں یہ سوال کوئی سوال نہیں۔ آج انسان یہ جان چکا ہے کہ دور کے فاصلوں سے کسی کو دیکھنا بھی ممکن ہے اور اس کی آواز کو سننا بھی۔ جو بات قدیم انسان کو ناقابل فہم نظر آتی تھی وہ آج کے انسان کے لئے خود اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں پوری طرح قابل فہم ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی کوئی بات اگر آج کی معلومات کی روشنی میں سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس بنا پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں لگانا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ علم کے اضافہ کے بعد کل وہ چیز ایک جانی پہچانی چیز بن جائے جو آج بظاہر ان جان چیز کی طرح دکھائی دے رہی ہے ۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخرت میں جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان تعلق موجودہ قسم کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعہ قائم ہوگا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جدید دریافتوں نے اس بات کو قابل فہم بنا دیا ہے کہ خدا کی کائنات میں ایسے انتظامات بھی ممکن ہیں کہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ کر بھی دو آدمی ایک دوسرے کو دیکھیں اور ایک دوسرے سے بخوبی طور پر بات کریں۔
کسی دلیل کا وزن آدمی اسی وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ جو لوگ آخرت کو اہمیت نہ دیں وہ آخرت سے متعلق دلائل کا وزن بھی محسوس نہیں کر پاتے۔ آخرت کی بات ان کے سامنے انتہائی مضبوط دلائل کے ساتھ آتی ہے۔ مگر اس کے بارے میں ان کا غیر سنجیدہ ذہن اس کے اندر کوئی نہ کوئی عیب تلاش کر لیتا ہے ۔ وہ طرح طرح کے اعتراض نکال کر خود بھی شک وشبہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک وشبہ میں مبتلا کرتے ہیں۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ وہ آخرت میں صرف خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے خواہ دنیا میں وہ اپنے کو خدا کی رحمتوں کا سب سے بڑا حق دار سمجھتے رہے ہوں ۔
کوئی دلیل خواہ کتنی ہی وزنی اور قطعی ہو ، آدمی کے لئے ہمیشہ یہ موقع رہتا ہے کہ وہ کچھ خوبصورت الفاظ بول کر اس کی صداقت کے بارے میں لوگوں کو مشتبہ کر دے۔ عوام ایک حقیقی دلیل اور ایک لفظی شوشہ میں فرق نہیں کر پاتے اس لئے وہ اس قسم کی باتیں سن کر حق سے بدک جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے با وجود اس طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو حق سے بدکاتے ہیں وہ آخرت کے دن خدا کی رحمتوں سے آخری حد تک دور ہوں گے۔