ذمہ داری اپنی
الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۶
اور دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی۔ اور اعراف کے اوپر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ امیدوار ہوں گے۔ اور جب دوزخ والوں کی طرف ان کی نگاہ پھیری جائے گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم کو شامل نہ کرنا ان ظالم لوگوں کے ساتھ۔ اور اعراف والے ان اشخاص کو پکاریں گے جنھیں وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے۔ وہ کہیں گے کہ تمھارے کام نہ آئی تمھاری جماعت اور تمھارا اپنے کو بڑا سمجھنا۔ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی نسبت تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان کو کبھی اللہ کی رحمت نہ پہنچے گی۔ جنت میں داخل ہو جاؤ، اب نہ تم پر کوئی ڈر ہے اور نہ تم غم گین ہوگے۔ ۴۹۔۴۶ دینا میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی نعمتوں اور اس کی جانب سے آئی ہوئی سختیوں سے مومن و مسلم سب یکساں دوچار ہوتے ہیں۔ مگر آخرت میں ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں دونوں کے درمیان ” آڑ “ قائم ہوجائے گی۔ وہاں مومنین کو ملی ہوئی نعمتوں کی کوئی خوشبو کافروں کو نہیں ملے گی اور اسی طرح کا فروں کو ملی ہوئی تکلیفوں کا کوئی اثر جنت والوں تک نہیں پہنچے گا۔
عرف کے معنی عربی زبان میں بلندی کے ہوتے ہیں۔ اعراف والے کا مطلب ہے بلندیوں والے۔ اس سے مراد پیغمبروں اور داعیوں کا گروہ ہے جنھوں نے مختلف وقتوں میں لوگوں کو حق کا پیغام دیا۔ قیامت میں جب لوگوں کا حساب ہوگا اور ہر ایک کو معلوم ہو چکا ہوگا کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے اور دائمی حق کی بات جو وہ دنیا میں کہتا تھا آخری طور پر صحیح ثابت ہو چکی ہوگی اس وقت ہر داعی اپنی قوم کو خطاب کرے گا۔ خدا کے حکم سے آخرت میں ان کے لیے اونچا اسٹیج مہیا کیا جائے گا جس پر کھڑے ہو کر وہ پہلے اپنے ماننے والوں کو خطاب کریں گے۔ یہ لوگ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے مگر وہ اس کے امیدوار ہوں گے۔ اس کے بعد ان کا رخ ان کے جھٹلانے والوں کی طرف کیا جائے گا۔ وہ ان کی بری حالت دیکھ کر کمال عبریت کی وجہ سے کہہ اٹھیں گے کہ خدایا ہمیں ان ظالموں میں شامل نہ کر۔ وہ گروہ منکرین کے لیڈروں کو ان کے چہرہ کی ہیئت سے پہچان لیں گے اور ان سے کہیں گے کہ تم کو اپنے جس جتھے اور اپنے جس ساز و سامان پر گھمنڈ تھا اور جس کی وجہ سے تم نے ہمارے پیغام حق کو جھٹلا دیا وہ آج تمھارے کچھ کام نہ آسکا۔ حق کا انکار کرنے والے وقت کے قائم شدہ نظام کے سایہ میں ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں ان کی حیثیت ہمیشہ مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ حق کے داعیوں کا ساتھ دیتے ہیں ان کا ساتھ دنیا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وقت کے جمے ہوئے نظام کی سرپرستی انھیں حاصل نہ رہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حق کو نہیں مانتے وہ ماننے والوں کی بے چارگی کو دیکھ کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی جنتوں میں جائیں گے۔ اصحاب اعراف قیامت میں ایسے لوگوں سے کہیں گے کہ اب دیکھ لو کہ حقیقت کیا تھی اور تم اس کو کیا سمجھے ہوئے تھے۔ بالآخر کون کامیاب رہا اور کون ناکام ٹھہرا۔