Al-Risala · May 1981 · page 27

الاعراف ، ۷

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۷

الاعراف ، ۷

اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ پانی ہم پر ڈال دو یا اس میں سے جو اللہ نے تمہیں کھانے کو دیے رکھا ہے۔ وہ کہیں گے کہ اللہ نے ان دونوں چیزوں کو کافروں کے لیے حرام کر دیا ہے۔ وہ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا تھا اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ پس آج ہم ان کو بھلا دیں گے جس طرح انھوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا اور جیسا کہ وہ ہماری نشانیوں کا انکار کرتے رہے ۔ ۵۱- ۵۰ دنیا دو قسم کی غذاؤں کا دستر خوان ہے۔ ایک دنیوی اور دوسری اخروی ۔ ایک انسان وہ ہے جس کی روح کی غذا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو نمایاں ہوتے ہوئے دیکھے۔ دنیا کی رونقیں اپنے گرد پا کر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مادی ساز و سامان کا مالک ہو کر وہ اپنے کو کامیاب سمجھتا ہے۔ ایسا آدمی خدا اور آخرت کو بھولا ہوا ہے۔ اس کے سامنے خدا کی بات آئے گی تو وہ اس کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دے گا۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سرسری سلوک کرے گا جیسے وہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ ہو بلکہ محض تماشا ہو۔

ایسے آدمی کے لئے آخرت کے انعامات میں کوئی حصہ نہیں۔ اس نے اپنے اندر ایک ایسی روح کی پرورش کی جس کی غذا صرف دنیا کی چیزیں بن سکتی تھیں۔ پھر آخرت کی چیزوں سے اس کی روح کیونکر اپنی خوراک پا سکتی ہے ، جو انسان آج آخرت میں نہ جیا ہو اس کے لئے آخرت ، کل کے دن بھی زندگی کا ذریعہ نہیں بن سکتی ۔ دوسرا انسان وہ ہے جو غیبی حقیقتوں میں گم رہا ہو۔ جس کی روح کو آخرت کی یاد میں لذت ملی ہو۔ جس کی غذا یہ رہی ہو کہ وہ خدا میں جئے اور خدا کی فضاؤں میں سانس لے۔ یہی وہ انسان ہے جس کے لئے آخرت رزق کا دستر خوان بنے گی ۔ وہ جنت کے باغوں میں اپنے لئے زندگی کا سامان حاصل کرلے گا۔ اس نے عالم غیب میں خدا کو پایا تھا اس لئے عالم شہود میں بھی وہ خدا کو پالے گا۔

خدا کی دنیا میں آدمی خدا کو کیوں بھلا دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا ایسی نشانیوں کے ساتھ سامنے آتا ہے جو صرف سوچنے سے ذہن کی پکڑ میں آتی ہیں، جب کہ دنیا کی چیزیں آنکھوں کے سامنے اپنی تمام رونقوں کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ آدمی ظاہری چیزوں کی طرف جھک جاتا ہے اور خدا کی طرف اشارہ کرنے والی نشانیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ مگر ایسا ہر عمل دنیا کی قیمت پر آخرت کو چھوڑنا ہے۔ اور جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں آخرت کو چھوڑا وہ موت کے بعد والی زندگی میں بھی آخرت سے محروم رہے گا۔

اللہ جب ایک چیز کو حق کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لائے اور وہ اس کو اہمیت نہ دیں ، وہ اس کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کریں تو یہ دراصل خود خدا کو فراہم سمجھنا اور اس کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کرنا ہے۔ دنیا میں حق کو نظر انداز کرنے سے آدمی کا کچھ بگڑتا نہیں ، حق کی پشت پر جو خدائی طاقتیں ہیں وہ ابھی غیب میں ہونے کی وجہ سے اس کو نظر نہیں آتیں۔ ۔ یہ صورت حال اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے ۔ جو لوگ اس طرح حق کو نظر انداز کریں وہ یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ خدا بھی آخرت کے دن انھیں نظر انداز کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page