Al-Risala · May 1981 · page 28

الاعراف ، ۷

الرسالہ، مئی ۱۹۸۱، صفحہ ۲۸

تذکیر القرآن

اور ہم ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنیاد پر مفصل کیا ہے، ہدایت اور رحمت بنا کر ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائیں۔ کیا اب وہ اسی کے منتظر ہیں کہ اس کا مضمون ظاہر ہو جائے۔ جس دن اس کا مضمون ظاہر ہو جائے گا تو وہ لوگ جو اس کو پہلے بھولے ہوئے تھے بول اٹھیں گے کہ بے شک ہمارے رب کے پیغمبر حق لے کر آئے تھے۔ پس اب کیا کوئی ہماری سفارش کرنے والے ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم کو دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ ہم اس سے مختلف عمل کریں جو ہم پہلے کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور ان سے گم ہو گیا وہ جو وہ گھڑتے تھے۔

قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے۔ مگر آدمی چوکنانہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگرچہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ تاہم ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتا ہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑانہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پر دے نہیں پڑے ہوئے ہیں وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ وہ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کر رہی تھی۔ قرآن ان کے لئے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔

اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انہیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانک دیکھے گا کہ وہ بالکل بے سہارا ہو چکا ہے۔ وہ جن مسائل کو اہم سمجھ کر ان میں الجھا ہوا تھا اس دن وہ بالکل بے حقیقت نظر آئیں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ کئے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پرجی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہوں گی۔

آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس لئے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہو پاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو سکا اس لئے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔

جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1981 All issues

Printed page